Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت اسلام میں خواتین کو مکمل حقوق اور تحفظ حاصل

شریعت اسلام میں خواتین کو مکمل حقوق اور تحفظ حاصل

یکساں سیول کوڈ لانے کوشاں گروپ کو ہرگز کامیابی نہیں ملے گی ، مسلم خواتین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /27 اکٹوبر ( راست ) ہم مسلم خواتین مختلف جماعتوں اور مسلکوں سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت ہی کھلے لفظوں میں اظہار کرتے ہیں کہ ہم مسلم پرسنل لا میں پوری طرح محفوظ ہیں وہ لوگ جو مسلم خواتین سے زبانی ہمدردی ظاہر کرتے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ وہ مساوات اور یونیفارم سول کوڈکے نام پرنیشنل اور انٹرنیشنل سازش کا شکار ہو رہے ہیں ۔اور یہ حکومت وقت کا جو ایجنڈا ہے جو ان کے مینیفیسٹو میں مذکور ہے ۔ نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ میٹ دی پریس میں خواتین نے کہا کہ ہم پورے اعتماد کے ساتھ دنیا کے یہ بتلانا چاہ رہے ہیں کہ جو حقوق اور جو حفاظت شریعت اسلامی نے ہم کو دی ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دی ہے لوگوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا تھا اور مسلمان شرعی قانون (جو کہ قرآن حضور اکرمؐ کی حیات طیبہ اور خلفائے راشدین) کے رہنما اصولوں پر مبنی ہے لوگوں کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ طلاق اور ایک سے زائد شادیوں کا تناسب مسلمانوں میںسب سے کم ہے، لیکن پروپیگنڈہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان مردوں کے پاس طلاق کے علاوہ اور کوئی دوسرا کام نہیں ہے وہ لوگ جو حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں ان کو جواب دینا چاہئے کہ:۱۔پارلیمانی نظام میں عورتوں کا پچاس فیصد حصہ کیوں نہیں ہے؟۲۔عدلیہ میں عورتیں کہاں نظر آتیں ہیں،۳۔ہندوستان کے مشہور تعلیمی ادارے، ریسرچ سینٹر عورتوں کی نمائندگی سے محروم کیوں ہیں؟۴۔ملٹری (فوج) میں عورتیں کہاں کھڑی ہیں؟۵۔اختلافات کی بنیاد پر اگر شادی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو عورتوں کو طلاق لینے میں سالہا سال کیوں لگ جاتے ہیںدوسری طرف ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ:۱۔شادی اسلام میں ایک معاہدہ ہے اور عورت کو پورا حق ہے کہ اس معاہدہ میں خاطر خواہ تبدیلی کرنا اور معاہدہ کو نامنظور کرنا بھی شامل ہے۔۲۔حق وراثت کے تعلق سے مسلمانوں میں مرد اور عورت کے درمیان کسی طرح کا امتیاز نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ قرآنی تعلیمات کیخلاف ہے ۔۳۔رحمِ مادر میں بچیوں کا قتل ‘ حمل ضائع کرنا اسی طرح تعدد ازواج کا تناسب مسلمانوں میں بہت کم ہے۔،۴۔مسلم خواتین قانون شریعت (نکاح، طلاق، خلع،فسخ،وراثت ) میں پوری طرح مطمئن و متفق ہیں اسمیں کسی طرح کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جو گروپ طلاق کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ کو لانا چاہتا ہے وہ اپنے مقاصد میں کبھی  نہیںہوںگے۔یہ بات حیرت انگیز ہے کہ سنگھ پریوار کئی زبانوں میں بول رہا ہے، آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ طلاق مسلمانوں کا اندرونی معاملہ ہے اور ان ہی کے ہم مزاج وزیراعظم مسلمانوں کی اٹھارہ کروڑ آبادی کو نظرانداز کرتے ہوئے جو اپنے ملک و قانون سے محبت کرتے ہیں ان کی رائے جانے بغیر شرعی معاملہ میں مداخلت کے لئے عدالت میں حلف نامہ داخل کرتے ہیں، ہم پھر ایک  بار اصرار کرتے ہیں کہ ہم مسلم خواتین اس طرح کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے اور مسلمان خواتین اپنے مسلم پرسنل لا میں بالکل محفوظ ہیں۔ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اٹھانے کا بنیادی مقصد اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں سے انکے وہ حقوق چھین لینا ہے، جو دستور میں دئیے گئے ہیں۔ ہندوستان کی 10 کروڑ مسلمان خواتین پورے طورپر مسلم پرسنل لا کی حمایت کرتی ہیں اور کسی بھی قسم کی دخل انداز ی کی مخالفت کرتی ہیں۔ لا کمیشن کی جانب سے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے اس کا مقصد ہر طرح سے یونیفارم سول کوڈ کو لاگو کرنا معلوم ہوتا ہے۔ ہم تمام خواتین اس سوالنامہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیںاور ہم مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہیں۔ مودی حکومت اور ان کے وزرا اکثرgender justice اوراس قسم کے الفاظ استعمال کررہے ہیں ۔انکو معلوم ہوناچاہئے کہ عورتوں کیساتھ اسلام میں انصاف کیا گیا ہے۔97% سے زیادہ مسلم خواتین کامیاب ازدواجی زندگی گذاررہی ہیں اور وہ اپنے مسلم پرسنل لا سے مطمئن و خوش ہیں۔ اسلام میں شادی ایک معاہدہ اور بونڈہے۔جس سے دونوں فریقین امن و خوشحالی کی زندگی گذارتے ہیں۔ تنازعہ کی صورت میں علیحدگی کا دروازہ اسلام نے کھلا رکھا ہے۔ اور اگر تنازعہ کا حل کس طرح بھی ممکن نہ ہو، تو پھرطلاق یا خلع کے ذریعہ فریقین علیحدگی اختیارکرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسلام میں طلاق کا قانون بہت آسان ہے۔ دوسرے مذاہب میں طلاق لینے کیلئے کورٹ جانا پڑتا ہے اور چھ  تاآٹھ سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں میں طلاق کے تناسب کو بتلاتے ہوئے انھوں نے کہااگرمطلقہ مسلمان کی تعداد دو لاکھ ہے تو ہندوؤں میں مطلقہ کی تعداد 10 لاکھ ہے۔ مسلمان عورتیں قابل ستائش ہیں کہ وہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کیلئے پورے ملک میں بڑی بھاری تعداد میں جمع ہورہی ہیں۔ اور جلسے و جلوس سے اپنی تائید و حمایت کا اظہار جمہوری طریقے کو اپناتے ہوئے کررہی ہیں۔ہم خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز پر دستخطی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیںاور ساتھ ہی ہم ہندو بہنوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ میڈیا کے غلط بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں اور مسلمان بہنوں سے اپیل ہے کہ وہ پرامن ،جمہوری طریقے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ساتھ دیں۔ اور جب جب بورڈ آپ کو آواز دے اس آواز پر لبیک کہیں۔ پریس کانفرنس میں جن خواتین نے شرکت کی:۱۔محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ ،رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،۲۔محترمہ ممدوحہ ماجد،رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،۳۔محترمہ عطیہ صدیقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، صدر جماعت اسلامی ہند،۴۔محترمہ زینت مہتاب اصلاح معاشرہ کمیٹی، نئی دہلی، ۵۔محترمہ بشریٰ رحمانسنبھل یوپی،۶۔محترمہ ڈاکٹر عطیہ خلجی جمعیت اہل حدیث، نئی دہلی،۷۔محترمہ خورشیددیوبند، ۸۔محترمہ یاسمین فاروقی،ویمین انڈیا، راجستھان شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT