Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت الہیٰ کے بجائے نفس کی پیروی پر دیکھا گیا کہ حقوق روندے گئے

شریعت الہیٰ کے بجائے نفس کی پیروی پر دیکھا گیا کہ حقوق روندے گئے

جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں شریعت انفارمیشن سرویس کی نشست ، اقبال احمد انجینئر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : شریعت اسلامی سارے انسانوں کے لیے ہے ۔ تخلیق انسان کے وقت ہی کہا گیا تھا کہ اللہ رب العزت نے ہدایت کا انتظام کردیا ہے اور زمانے کے اعتبار سے جیسے جیسے ضرورت ہوگی ۔ اللہ کے احکامات ، رسولوں کے ذریعہ پہونچائے جائیں گے ۔ کس کی عبادت کریں اور کیسی زندگی گزاریں یہ ہدایات دینے کا حق صرف اللہ واحد کو ہی ہے ۔ وہی کائنات کا مالک ہے اور انسانوں کا خالق ہے ۔ انسانوں کی بھلائی کس میں ہے وہی واقف ہے ۔ شریعت الہیٰ پر چلنے سے بندے کا ہی فائدہ ہے ۔ جب جب انسانوں نے شریعت الہیٰ کے بجائے اپنے نفس و خواہش کی پیروی کی تو کبر و فخر کو موقع ملا اور زمانے نے دیکھا کہ انسانی حقوق روندے گئے اور زمین فساد سے بھر گئی ۔ یہ سوال مخالفین سے آتا ہے کہ شریعت اسلامی قدیم ہے اور موجودہ زمانے میں بھلا اس کا اطلاق کیسے ہوگا ۔ کہنے کو اس سوال میں بڑا زور معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقی جائزہ میں یہ سوال بے عقلی کی دلیل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں شریعت انفارمیشن سرویس کی 599 ویں نشست کو بعنوان ’شریعت کے بعض پہلو اور مختلف مذاہب ‘ مخاطب کرتے ہوئے جناب اقبال احمد انجینئر نے کیا ۔ نشست کا آغاز قاری عبدالواحد کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ مقرر نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے درمیان قدیم زمانے سے موجودہ زمانے تک کیا بدلا ہے ۔ انسان کی تخلیق کے لیے مرد و زن کی ضرورت ہے ۔ زندہ رہنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے ۔ نقل مقام کے لیے سواری کی ضرورت ہے ۔ خاندان کے لیے رشتوں کی اہمیت ہے ۔ ترقی کے نام پر صرف اتنا ہوا ہے کہ وہ وسائل و ذرائع میں اضافہ ہوا۔ تحقیق و تجربات سے انسان نے ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں ۔ جیسے جیسے ضروریات بڑھتی گئیں اس کی تکمیل کے لیے نئی ٹکنالوجی کا استعمال کیا ہے ۔ لیکن ازدواجی زندگی وہی ہے ۔ میاں بیوی کے رشتوں میں ذمہ داریاں وہی ہیں۔ عائلی زندگی میں قرابت داروں کے حقوق کی وضاحت وہی ہے ۔ قومی سطح پر شہری اور شہریت کے اصول وہی ہیں ۔ بین الاقوامی معاملات میں ملکوں کے مفادات کا تحفظ ہے ۔ نظریاتی اور تہذیبی بنیادیں انسانی افکار و تخیلات کے رہین منت ہیں تو پھر بتائیے کہ کیا تبدیلیاں آئی ہیں ۔ جس میں اقدار بدلے ہیں ۔ والدین سے حسن سلوک کا رواج اپنی جگہ ہے ۔ بڑوں کا احترام کے اپنے معنی ہیں اور اسلامی شریعت تو عدل و انصاف کو قائم کرنا چاہتی ہے ۔ احسان کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کرتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کی جان کی حرمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ اسلامی شریعت یہی پیغام دیتی ہے کہ اقتدار صرف اللہ ہی کا ہے ۔ موت یقینا لازم ہے اور موت کے بعد کی زندگی یقینی ہے اور میدان حشر میں جوابدہی بڑی سخت ہے ۔ ہر انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ۔ اب بتائیے کہ ایسا بین الاقوامی پیغام کس شریعت میں موجود ہے ۔ جواب یہی ہے کہ نہیں ہرگز نہیں ۔ اس لیے شریعت اسلامی میں آج کی گمراہ انسانیت کی ہدایت کا واحد حل ہے جس میں اللہ واحد کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت مضمر ہے ۔ جناب غلام یزدانی سینئیر ایڈوکیٹ و کنوینر محفل نے خطاب پر تبصرہ کیا ۔ دعا پر نشست برخاست ہوئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT