Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / شریعت میں تبدیلی کی کوشش کرنے والوں کے ہاتھ جل جائیں گے

شریعت میں تبدیلی کی کوشش کرنے والوں کے ہاتھ جل جائیں گے

یکساں سیول کوڈ کے خلاف مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ۔ تحریک مسلم شبان کی تحفظ شریعت کانفرنس

حیدرآباد۔13نومبر(سیاست نیوز) دنیا کے ہر مذہب کے داخلی قوانین میںتبدیلیاں لائی جاسکتے ہیں اور ایسا ہوتا بھی مگر مذہب اسلام کے شرعی قوانین صبح قیامت تک تبدیل نہیںکئے جاسکتے کیونکہ اسلامی قوانین کی بنیاد قرآن او رحدیث کی روشنی میں ہے جس میںتبدیلی کی کوششیں نہ صرف رائیگاں جائیںگی بلکہ تبدیلی کے کوشش کرنے والوں کے ہاتھ جل جائیں گے ۔ تحریک مسلم شبان کے زیراہتمام منعقدہ کل ہند تحفظ شریعت کانفرنس سے خطاب کے دوران نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست الحاج محمد محمودعلی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ نمائش میدان میں صدر شبان جناب مولانا محمد مشتاق ملک کی صدارت میںمنعقدہ تحفظ شریعت کانفرنس کا آغاز حافظ وقاری بابا محی الدین کی قرات کلام پاک سے ہوا اور قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر‘ رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ جناب نوید احمد‘ڈاکٹر نظر عباس سابق صدر علی گڑہ مسلم یونیورسٹی‘ جناب دانش علی جنرل سکریٹری جنتادل ایس دہلی‘سینئر کمیونسٹ قائد وسابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سید عزیز پاشاہ ‘مفتی صادق محی الدین فہیم‘ مولانا حامد محمد خان‘ مفتی تجمل حسین‘ مولانا مفتی غیاث رحمانی‘ مولانا شفیق عالم جامعی‘بی نارائن رائو کرناٹک کانگریس ودلت لیڈرکے علاوہ دیگر علماء کرام اور مشائخین عزام نے بھی اس جلسہ سے خطاب کیا۔اسلامی اسکالر جناب مجاہد اسلام اور مولانا سید طار ق قادری نے اس موقع پر شریعت اکیڈیمی اور دفعہ 44کے متعلق قراردادیں پیش کی جس کو نعروں کی گونج میںمنظور کیاگیا۔اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب محمد محمودعلی نے یونیفارم سیول کوڈ کے متعلق حکومت تلنگانہ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے پہلے ہی واضح کردیاہے کہ مرکزی حکومت غریبی ہٹانے اور تعلیم کو عام کرنے کی بات کرنے کے بجائے دو سماجوں میںتقسیم کے لئے یکساں سیول کوڈ کا شوشہ چھوڑ ا ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ جناب محمدمحمودعلی نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے کی گئی نمائندگی کا بھی حوالہ دیا جس میں یکساں سیول کوڈ سے دوری اختیار کرنے اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میںمداخلت سے گریز کا مرکز کومشورہ دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی شریعت امن او رانصاف کا پیغام دیتی ہے ۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ اسلامی تعلیمات پڑوسی خواہ وہ غیرمسلم بھی ہوا تو اس کا خیال رکھنے اور حق ادا کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام نے ہی معاشرہ میںعورت کو اس کا جائز مقام دلایا ہے اس سے قبل عورتیں زندہ درگور کردی جاتی تھیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام نے عورت کی عزت او رعظمت والی چیز بناکر ساری دنیا کے یہ پیغام دیا ہے کہ حق کبھی مظلوم کے ساتھ ناانصافی نہیںکرتا۔جناب محمد محمودعلی نے طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کا معاملہ معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جس کا کسی ایک جانب سے غلط استعمال کرنا گویا تمام مسلم معاشرے کو غلط باوار کرانے کی کوشش کرنا ناقابلِ برداشت ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میںعلماء او رمشائخین عزام کی خدمات سے استفادہ اٹھاتے ہوئے صحیح راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ جناب محمد محمودعلی نے عوام کی کثیرتعداد کو اس بات کا تیقن دیا کہ حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے اس حساس مسلئے پران کے ساتھ ہے او روہ کبھی بھی شریعت میںمداخلت کی حامی نہیںرہی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو اس ضمن میںوزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب بھی روانہ کریں گے جس میں مسلمانوں کی پرسنل لاء میںمداخلت کے بجائے ان کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے اقدامات مرکز حکومت کی جانب سے اٹھائیںجائیںگے۔ جہاں تک پارلیمنٹ میں یوسی سی کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی بات ہے تو جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کے تمام اراکین پارلیمنٹ لوک سبھا ‘ راجیہ سبھا ضرورت پڑنے پر ایوان پارلیمنٹ میںبھی یونیفارم سیول کوڈ کی مخالفت میں اپنی رائے پیش کریںگے۔( سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT