Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت میں مداخلت ناقابل برداشت: یونائٹیڈ مسلم فورم

شریعت میں مداخلت ناقابل برداشت: یونائٹیڈ مسلم فورم

حیدرآباد۔ 13 اکتوبر (راست)جناب محمد رحیم الدین انصاری ،صدر مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سیدقبول بادشاہ شطاری، مولانا میر قطب الدین علی چشتی، مولانا محمد حسام الدین ثانی عامل، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،جناب ضیاء الدین نیر، نائب صدور جناب سید منیر الدین احمد مختار معتمد عمومی، جناب عمر احمد شفیق، جناب مسعود حسین مجتہدی، جناب تقی رضا عابدی، مولانا سید احمد الحسینی سعید القادری خازن اور دیگر ارکان نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ تین طلاق اور تعد دازدواج کی مخالفت میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو اپنی رائے دی ہے اور حکومت کے اس اقدام پر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ، جمعیۃ العلماء ہند اور جماعت اسلامی ہند نے اور دیگر اکابر علمائے کرام نے بھی اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے، یونائیٹیڈ مسلم فورم تلنگانہ وآندھرا نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ شریعت کے معاملے میں حکومت کی مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیاجائے گا، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے حکومت رائے لے کر اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرتی تو مناسب ہوتا، فورم نے کہا کہ شریعت میں مداخلت جمہوریت کے خلاف ہے، مرکزی حکومت کے اس اقدام پر فورم نے حیرت وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، دستور کے مطابق اس ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کاقانونی اور جمہوری حق ہے،لہٰذا اس میں کوئی بھی حکومت یا جماعت مداخلت نہیں کرسکتی۔اس لئے بی جے پی یا حکومت کی جانب سے تین طلاق کے مسئلے پر ہندوستانی  مسلمانوں کے خلاف اپنی رائے ظاہر کرنا بالکل غیر جمہوری اور غیر منصفانہ عمل ہے، طلاق یا نکاح جیسے معاملات شریعت میں طئے کردئے گئے ہیں، اس کے خلاف خود مسلمان بھی نہیں جاسکتے تو پھر کسی حکومت کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں تبدیلی کی وکالت کرے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT