Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت میں مداخلت کی مخالفت، مودی کی نوٹ بندی اور اندرا گاندھی کی نس بندی کا موازنہ

شریعت میں مداخلت کی مخالفت، مودی کی نوٹ بندی اور اندرا گاندھی کی نس بندی کا موازنہ

زندہ دلان حیدرآباد کا کل ہند مزاحیہ مشاعرہ، شعراء کرام کے طنزیہ کلام پر سامعین کی خوب داد و تحسین
حیدرآباد 27 نومبر (سیاست نیوز) زندہ دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب کے دوسرے روز ہفتہ 8 بجے شب نمائش میدان میں کل ہند مزاحیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ موسم کے سرد ہونے کے باوجود مرد و خواتین، نوجوان، طلباء و طالبات اور بچوں کی کثیر تعداد نے اردو دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے مزاحیہ شعراء کے کلام کو بڑی دلچسپی کے ساتھ سنا۔ خصوصیت کے ساتھ زندہ دلان حیدرآباد کے اس مشاعرہ میں شعراء نے حیدرآباد کے اس سرزمین پر ان دنوں ایک ہزار اور 500 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے عوام میں صورتحال سے دوچار ہے اور وہیں کالا دھن اور رشوت ستانی جو ہندوستان کے لئے ایک سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے اس پر کڑی تنقید کی اور اپنے اشعار کے ذریعہ بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح تو یہ ہونا چاہئے کہ ایک عام آدمی تک دولت پہنچے اور جو لوگ ہزاروں و کروڑوں روپیوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں، اس ناجائز دولت کے خلاف کارروائی کرے۔ اس مشاعرہ میں اس بات پر بھی کڑی تنقید کی گئی کہ وزیراعظم نے نوٹ بندی کا جو معاملہ اٹھایا وہ کروڑوں عوام کی کمائی ہوئی محنت سے آج وہ خود اپنے اِن نوٹوں کے لئے پریشان ہیں۔ جم کر مخالفت کی۔ اس کل ہند مزاحیہ مشاعرہ کی صدارت پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی حکومت تلنگانہ نے کی۔ شعراء کرام نے اپنے کلام میں گیت بھی مزاحیہ اشعار کے ذریعہ بینکوں کے سامنے لمبی قطاریں، انتخابی اُمور ، ’’مجھ کو ایم پی بناکر بھیجو دھوم مچادوں گا‘‘۔ شریعت میں بار بار کی جانے والی مداخلت پر شدید تنقید کی۔ مشاعرہ سے قبل جناب غلام صمدانی معتمد عمومی نے شعراء اور سامعین کا خیرمقدم کیا اور زندہ دلان حیدرآباد کی تفصیلی کارکردگی پیش کی اور کہاکہ ہر سال سالانہ تقاریب کا اہتمام پابندی سے کیا جاتا ہے۔ مزاحیہ مشاعرہ کا آغاز نجیب احمد کے کلام سے ہوا۔ اس کے بعد جناب وحید پاشاہ نے اپنی آواز میں سلگتے ہوئے موضوع پر پیروڈی پیش کی جس کو سامعین نے خوب داد دی۔ وحید پاشاہ قادری نوٹوں کی منسوخی پر شدید طنز نے سامعین کو قہقہہ زار بنادیا۔ جناب شاہد عدیلی نے اپنے مزاحیہ کلام میں وزیراعظم ہند کی نوٹ بندی اور اندرا گاندھی کی جانب سے کی جانے والی نس بندی کا موازنہ کیا اور داد حاصل کی۔ سرور شاہ جہاں پوری (لکھنؤ) ، چچا پالموری، نشتر امروہی (دہلی) ، کلیم ثمر بدایونی، ڈاکٹر علیم خان فلکی (جدہ)، سندر مالیگانوی، نصرت ظہیر کے کلام کو سامعین نے کافی پسند کیا۔ ان شعراء نے کالا دھن، گھر واپسی، دہشت گردی ، اے ٹی ایم، بینکوں میں قطاریں، مدھیہ پردیش میں حکومت نے زیردریافت قیدیوں کا انکاؤنٹر کیا۔ اس پر طنز کئے۔ اس کے علاوہ سرحد پر پاکستان کی جانب سے ہندوستانی سپاہیوں کی لاشوں کی جو بے حرمتی کی گئی اس پر تیر برسائے گئے۔ ان کے علاوہ افتخار یوسفی (مالیگاؤں) ، مصطفی علی بیگ ، ڈاکٹر محمد علی رفعت، ڈاکٹر معین امر بمبو، اقبال شانہ اور ٹپکل جگتیالی کو داد سے نوازا گیا۔ جناب فیروز رشید (ناندیڑ) نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر نواب محبوب عالم خاں اعزازی معتمد انوارالعلوم کالج، جسٹس ای اسماعیل سابق رکن انسانی حقوق کمیشن، نوین متل آئی اے ایس، کمشنر تعلقات عامہ حکومت تلنگانہ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال ایڈیٹر شگوفہ و دیگر ذی اثر شخصیات موجود تھیں۔

TOPPOPULARRECENT