Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / شریعت میں مودی کی مداخلت افسوسناک

شریعت میں مودی کی مداخلت افسوسناک

کسی خاص مذہب کے لوگوں پر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں :مایاوتی
لکھنو ۔25 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی کہ وہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر اپنے موقف کو مسلط کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ انھیں آر ایس ایس ایجنڈہ پر عمل کرتے ہوئے کسی خاص مذہب کے ماننے والوں پر اپنی رائے اور فیصلہ کو زبردستی مسلط نہیں کرنا چاہئے ۔ شریعت میں وزیراعظم نریندر مودی کی مداخلت افسوسناک ہے۔ مرکز اور بی جے پی پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ شریعت سے متعلق مسائل کو اُچھال کر ماحول گرمارہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اس معاملہ کو مسلم طبقہ پر چھوڑدینا چاہئے اور آنے والے اسمبلی انتخابات کے مدنظر کسی کو اس مسئلہ کو اُٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ سیاسی مفادات کے لئے بعض ریاستوں میں بی جے پی شریعت کے حوالے سے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گی ۔ نریندر مودی زیرقیادت مرکزی حکومت اور بی جے پی نے اب مسلم پرسنل لاء پر ایک نیا تنازعہ شروع کیا ہے ۔طلاق ثلاثہ اور یکساں سیول کوڈ کو بھی اُچھالا جارہا ہے۔ بعض ریاستوں کے آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ان مسائل کو گرمایا جارہا ہے۔

یاوتی نے ایک بیان میں وزیراعظم کے رویہ کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ان کی پارٹی بہوجن سماج پارٹی اس طرح کی حرکتوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ حقیر سیاست کیلئے مرکزی حکومت اور بی جے پی یہ ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے اور مایاوتی نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم اور مرکزی حکومت کو طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مداخلت کرنے کے بجائے مسلم طبقہ کو ایک بہتر زندگی گذارنے کا موقع دینا چاہئے تاکہ وہ یکساں رائے قائم کرسکیں۔ نریندر مودی نے کل ہی مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کی مذمت کی تھی اور اس مسئلہ پر سیاست کرنے کی بھی کوشش کرنے والوں پر تنقید کی تھی ۔ بہوجن سماج پارٹی سربراہ نے کہاکہ یہ وزیراعظم کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ایک خاص مذہب کے ماننے والوں پر اپنی رائے اور فیصلہ کو زبردستی مسلط کردیں ۔ یہ قومی مفاد میں نہیں ہے کہ بی جے پی اور وزیراعظم مسلمانوں اور ان کے شریعت کے مسائل میں حقیر سیاست کریں خاص کر چند ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے قبل یہ حربے افسوسناک ہیں ۔ اسی دوران شیوسینا نے آج مسلم قائدین پر زور دیاکہ وہ درگاہ حضرت حاجی علی کی مزار تک خواتین کی مکمل رسائی کیلئے حاجی علی درگاہ ٹرسٹ کے فیصلہ کی روشنی میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر بھی اپنی قومی جذبہ کا مظاہرہ کریں ۔ اس نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے ، اس مسئلہ پر پس و پیش کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے مثبت پیشرفت کی جائے ۔ حاجی علی ٹرسٹ کی جانب سے مزار شریف تک خواتین کو جانے کی اجازت دینے کے فیصلہ کے بعد تمام مسلمانوں کیلئے ایک نظیر قائم ہوئی ہے کہ وہ بھی طلاق ثلاثہ ، یکساں سیول کوڈکے بارے میں قومی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسے قبول کریں۔

TOPPOPULARRECENT