Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت کا قانون ‘ قانون الہی ‘ مداخلت کا کسی کو بھی اختیار نہیں

شریعت کا قانون ‘ قانون الہی ‘ مداخلت کا کسی کو بھی اختیار نہیں

جامعۃ المومنات میں کل جماعتی مشاورتی اجلاس سے علما ‘ مشائخین و دانشوران ملت کا خطاب
حیدرآباد /25 اکٹوبر ( راست ) شریعت کا قانون قانون الہی ہے اس میں کسی کو مداخلت کرنے کا اختیار نہیں ہے اور اس میں جو تبدیلی چاہتے ہیں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ اسلام نے خواتین کی زندگی کو آباد کرنے جو نظام عطا کیا اس میں کسی بھی قسم کا جھول نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی ہمدردی کا محتاج ہے ، کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ جو مسلمانانِ ہند کا نمائندہ بورڈ ہے وہ ضرورت پر حکومت اور سارے مسلمانوں کی رہبری کرتا ہے اور اس کے خلاف سازشوں کی خلاف قانونی و دستور ہند کی روشنی میں حق شریعت کی ترجمانی کرتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جامعتہ المومنات میں کل جماعتی مشاورتی اجلاس سے علما‘ مشائخین ، دانشوران ملت نے کیا ۔ اجلاس کا آغاز ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کی قرات مولانا خلیل اللہ قریشی کی نعت شریف سے ہوا ۔ مفتی محمد حسن الدین صدر مفتی نے صدارت کی ۔ متفقہ طور پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی مکمل تائید کی گئی اور جامعتہ المومنات کی جانب سے جلسہ تحفظ قانون شریعت بارئے خواتین منعقد کرنے ونیز یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے خلاف مسلم خواتین کی ایک پرامن ریالی تاریخی مکہ مسجد سے نکالے جانے کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے ۔ مفتی صادق محی الدین نے کہا کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا تمام طبقات میں ناپسندیدہ ہے اگر عوام کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتو وہ علماء کرام یا مشائخین عظام سے مشورہ کریں ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ جو سارے مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا ہے ہم اس کی تائید میں ہیں اور اس کیجانب سے جو دستخطی مہم چلائی جارہی ہے اس میں ضرور حصہ لیں ۔ مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی نے  کہا کہ شریعت کا حکم اپنی جگہ مسلم ہے اس میں تبدیلی کسی کے اختیار میں نہیں ۔ جناب الحاج اقبال احمد انجینئیر نے کہا کہ اسلام یکجہتی کا مذہب ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کے احکامات نہ صرف مسلمانان ہند تک محدود ہیں بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ہیں ۔ مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء احکام شریعت کی حفاظت کیلئے بنایا گیا ہے ۔ مولانا مفتی محمد غیاث الدین رحمانی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا مسلمانوں کو تحفہ میں نہیں دیا گیا بلکہ ہمارے آبا و اجداد میں لاکھوں نے جنگ آزادی کے وقت اپنے سروں کو کٹایا جب ہمیں دستور میں حق حاصل ہوا ۔ مولانا غلام نبی شاہ نقشبندی نے کہا کہ ہمیں متحد ہوکر دین اسلام کی اشاعت اور ترویج کیلئے آگے بڑھنا ہے ۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ آج جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ ایسے لوگوں کا عمل ہے جو دین میں رہ کر دین سے بیزار ہیں ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیتہ العلماء نے کہا کہ حضورﷺ نے چودہ سو سال پہلے جو منشور ہمیں دیا تھا ہم اس پر قائم ودائم رہیں گے ۔ مولانا محمد اظہرالدین نے کہا کہ اسلام نظام رحمت ہے ۔ یہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا ۔ مفتی عبدالمغنی المظاہری نے کہا کہ طلاق ثلاثہ تعدد ازدواج کے موضو ع پر حکومت بے جا مداخلت کر رہی ہے اس پر سارے دنیا کے مسلمان متحد ہوکر مقابلہ کر رہے ہیں ۔  ڈاکٹر پروفیسر سراج ا لرحمن نقشبندی الفاروقی نے کہا کہ اسلام کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو رب العالمین کے عذاب نے جکڑا ۔ مسلمان دستور حیات رکھتا ہے یہ پیغام غیر مسلم تک پہونچانا ضروری ہے ۔ مولانا سید دلدار حسین نے کہا کہ دنیا میں مذاہب بہت سے ہیں لیکن مذہب اسلام ایسا مذہب ہے جس کی بقا کیلئے اللہ تعالی نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد نبیوں کو بھیجا ۔ الحاج سید شاہ نورالحق قادری نے کہا کہ کئی سائنس داں اسلام قبول کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام فطری مذہب ہے ۔ مولانا سید اسرار حسین رضوی المدنی نے کہا کہ آج محتلف مکاتب فکر کے لوگ مختلف عقئد کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں ۔ اس لئے کہ سب کی شریعت ایک ہے ۔ شریعت محمدی ﷺ میں قیامت تک تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا ۔ جناب سید مشتاق ملک ( صدر تحریک مسلم شبان ) نے کہا کہ جو مسلمانوں کے دین و شریعت میں مداخلت کر یگا وہ اسلام سے خارج ہے ۔ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ ہم ایک دستور کے تحت ہیں اور یہ ایک دستوری جنگ ہے اور بانی دستور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کہا تھاکہ کوئی پاگل حکومت ہی ہندوستان میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ کرسکتی ہے ۔مفتی حافظ سید معراج الدین ابرار احمد انوارالہدی نے کہا کہ حکومت طلاق ثلاثہ کو ہتھیار بناکر مسلم پرسنل لاء کو ختم کر رہی ہے جس سے مسلمان کے تشخص اور پہچان ختم ہوجائے ۔ مولانا فضل اللہ قادری نے کہاکہ تحفظ شریعت کرنا اس سے پہلے میں اپنی اصلاح کرنا چاہئے ۔ محترمہ عقیلہ خاموشی رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہاکہ مسلم خواتین کے حقوق کی بناء پر دیگر مذاہب کی خواتین دائرہ اسلام میں داخل ہو رہی ہیں اس عمل کو ختم کرنے حکومت مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ محترمہ صیبحہ صدیقی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا ہماری عزت نفس کی ضامن ہے ۔ اس اجلاس میں مولانا حسان فاروقی ‘ حضرت مولانا صدیق حسینی ‘ مولانا حکیم اقبال بابا کملیہ ، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری ، مولانا ڈاکٹر محمد ذوالفقار محی الدین صدیقی ، مولانا ڈاکٹر یوسف الدین بغدادی ، مولانا حافظ محمد عثمان نقشبندی امام مکہ مسجد ، محمد محمود احمد خان کامرانی ، مولانا حافظ محمد رفعت اللہ خان ، اور دوسروں نے شرکت کی ۔ مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی کی دعاء پر اجلاس کا اختتام عمل میں لایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT