Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ’’شریعت کے مطابق زندگی گذارنے سے کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی‘‘

’’شریعت کے مطابق زندگی گذارنے سے کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی‘‘

مسلمان اپنے دین و دستور میں کسی قسم کی ترمیم یا تحریف کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جلسہ عام سے علماء کا خطاب

حیدرآباد۔19اکٹوبر (سیاست نیوز) مسلمان اپنے دین و دستور میں کسی قسم کی ترمیم یا تحریف برداشت نہیں کر سکتے اور حکومت کی ان کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے مسلمانوں اور ملک کے اقلیتوں پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کے کے مطابق اللہ کی اتاری ہوئی کتاب قرآن مجید کے فیصلہ پر راضی نہ ہوں وہ کافر ہیں۔ ہمارے دل مردہ ہوچکے ہیں اسی لئے آج اغیار کی یہ جرأت ہو رہی ہے کہ وہ شریعت میں مداخلت کر رہے ہیں۔اللہ نے اپنے نبیؐ کی وساطت سے جو قوانین ہم تک پہنچے  ہیں عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ شریعت کے مطابق زندگی گذارنے سے کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی۔ اسلام و شریعت باقی رہے گی تو ہمارے مکاتب فکر باقی رہیں گے۔ جو قوم متحد ہوتی ہے وہ اس سنگریزوں سے تعمیر کردہ اس چٹان کی طرح ہوتی ہے جسے طوفان بھی ٹکرائیں تو نہیں گرتی۔جہاں خوف خدا دلوں میں ہوتا ہے وہاں طلاق کا ذکر ہی نہیں ہوتا۔ اس موقع پر 6نکات و مطالبات پر مشتمل قرارداد منظور کی گئی۔

جس میں یہ واضح کیا گیا کہ قوانین شریعت مسلمانوں کی شناخت ہے اور سوالنامہ کا بائیکاٹ کریں کیونکہ یہ جلسہ لاء کمیشن آف انڈیا کے اقدام کو سازش تصور کرتا ہے۔ تحفظ شریعت کے عنوان سے منعقدہ مسلم پرسنل لاء بور ڈ کے جلسۂ عام سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وضاحت کی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن آف انڈیا کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو مسترد کیا ہے کیونکہ اس سوالنامہ کو اس قدر پیچیدہ بنایا گیا ہے کہ عوام گمراہ ہو کر یکساں سیول کوڈ کی تائید کریں۔انہوں نے بتایااس سوالنامہ کو دستور کی دفعہ 44کے استعمال کے ذریعہ دستوری عمل قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مسلمان سر کٹا سکتا ہے ‘ جان و مال قربان کرسکتا ہے لیکن کسی ایسے نظام و قانون کے سامنے نہیں جھک سکتا جو اسے شریعت پر عمل سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت ہمارے ایمان و عقیدہ کا معاملہ ہے ۔

رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی کی زیر نگرانی دارالسلام میں منعقدہ اس جلسہ ٔ عام سے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان کے علاوہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے زحاطب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ وہ تمام آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے پرسنل لاء بورڈ کے ہر پروگرام پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ احتجاجی جلسہ ٔ عام سے خطاب کرنے والے ذمہ داران میں مولانا سید شاہ قبول بادشاہ قادری شطاری زریں کلاہ ‘مولانا حافظ پیر شبیر احمد‘ مولانا عبدالمغنی مظاہری‘ مولانا حامد محمد خان‘ مولانا صفی احمد مدنی‘ مولانا سید علی اکبر نظام الدین حسینی صابری ‘ مولانا سید ضیاء الدین نقشبندی‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ‘ مولانا حافظ احسن بن محمد الحمومی‘ مولانا رحیم الدین انصاری‘ مولانا سید نثار حسین حیدرآغا‘ مولانا سید مسعود حسین مجتہدی‘ جناب ضیاء الدین نیر‘ ڈاکٹر اسماء زہرہ‘ محترمہ صبیحہ صدیقی ‘ محترمہ عقیلہ خاموشی‘ مولانا آل مصطفی قادری علی پاشاہ‘ مولانا سید احمدالحسینی سعید قادری‘ مولانا معراج الدین علی ابرار کے علاوہ دیگر اہم شخصیتیں شامل ہیں۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ملک کے سیکولر ازم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ جوابی حلف نامہ کی تفصیل پیش کی۔انہوں نے حلف نامہ میں پاکستان‘ افغانستان‘بنگلہ دیش‘مراقش‘ تیونس‘ ترکی و دیگر ممالک کا حوالہ دیئے جانے پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ہندستانی مسلمانوں کی توہین کے مترادف ہے۔ مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مسلم نوجوانوں کو نکاح و طلاق کے اصولوں سے واقف کروایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان نسل اس بات سے واقف تک نہیں ہیں کہ طلاق ثلاثہ کیا ہے؟ مولانا عبدالمغنی المظاہری نے بتایا کہ احکام شریعت امت کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ طلاق عورتوں کے حق میں ایک طرح سے نعمت ہے۔ طلاق معیوب اور گندی سمجھ کر جب نہ لی جا رہی ہے اور نہ دی جا رہی ہے ایسی صورت میں عورت گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے۔اسی لئے شریعت نے یہ سہولت دے رکھی ہے۔ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ خواتین اسلام اپنے شرعی قوانین کے ساتھ زندگی کے گذارنے کا اعلان کرچکی ہیں انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم میں خواتین کا مثبت ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔ محترمہ صبیحہ صدیقی نے بتایا کہ اسلامی قوانین نے خواتین کو جو حقوق فراہم کئے ہیں وہ کسی اور مذہب میں حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دستخطی مہم کے دوران انہوں نے جو مشاہدہ کیا ہے اس کے مطابق وہ پوری مہم کے دوران کسی ایک ایسی خاتون سے ملاقات نہیں ہو پائی ہے جو یہ کہے کہ وہ یکساں سیول کوڈ کی حامی ہے۔علماء نے اس موقع پر اپنے خطابات کے دوران کہا کہ حکومت مسلمانوں کو للکار رہی ہے لیکن ان شرانگیزیوں میں بھی ہم خیر کی توقع کرتے ہیں ۔اللہ رب العزت نے اپنے قوانین میں کسی کو دخل اندازی کا اختیار نہیں دیا ہے۔طلاق ثلاثہ و تعدد ازواج کے علاوہ نان نفقہ ، ہبہ و میراث ایسے قوانین ہیں جن کی شریعت میں صراحت موجود ہے اور مسلمان ان میں کسی تبدیلی یا تحریف کو قبول کرنے کیلئے قطعی تیار نہیں ہیں ۔1864سے پہلے عدالتوں میں مسلمانوں کے مقدمات کی یکسوئی کیلئے علماء موجود ہوا کرتے تھے اور ہندوؤں کے مقدمات کی یکسوئی کیلئے پنڈت موجود تھے لیکن 1864میں تمام مقدمات عام عدالتوں میں یکسوئی کی جانے لگی۔علماء نے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحدہ طور پر ان کوششوں کا مقابلہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT