Friday , September 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / شعبہ تعلیم کے فنڈز میں مسلسل کمی نامناسب

شعبہ تعلیم کے فنڈز میں مسلسل کمی نامناسب

کریم نگر میں منعقدہ پروگرام سے نارائن ریڈی کا خطاب

کریم نگر ۔ 10 ؍ جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی و ریاستی حکومتوں کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ شعبہ تعلیم کے لئے جاری کردہ فنڈز تاجرانہ سرمایہ نہیں ہے کہ منافع کو مد نظر رکھا جائے بلکہ ملک کی ریاست کی ترقی کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے سمجھا جائے ۔ ڈی ٹی ایف ریاستی کونسلر سابق صدر کے نارائن ریڈی نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وہ مستقر امیرنگر اردومیڈیم اپرپرائمیری اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں کہاکہ مرکزی ریاستی حکومتوں کے شعبہ تعلیم کے لئے جاری کردہ فنڈز کو تجارتی سرمایہ کی طرح دیکھنے کی وجہ سے اس سرمایہ کی واپسی نہیں ہوگی ۔ اس خیال سے ابتدائی سطح سے لے کر یونیورسٹی سطح تک فنڈز میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ تعلیم پر خرچ کی جا رہی رقم کو ترقیاتی پروگرام خیال کیا جائے تو بہتر رہے گا ۔ درحقیقت شعبہ تعلیم کے جی سے پی جی تک حکومت کے زیر نگرانی رہنا چاہئے ۔ حصول تعلیم ہر شہری کا قانونی حق ہے اور اخراجات کو برداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ریاستی آڈٹ کنوینر ڈی اے ریڈی نے اپنے خطاب میں کہاکہ پی آر سی بقایاجات ‘ ہیلت کارڈ کے معاملات کا ریاستی حکومت فوری جائزہ لیتے ہوئے حل کر دے مطالبہ کیا ۔ اس اجلاس میں ایم اے رزاق ضلع سکریٹری ٹی تروپتی مستقر جنرل سکریٹری اے سمپت راؤ ‘ ڈی سوامی داس کے سری لتا وغیرہ شریک ہوتے ہوئے کچھ قراردادیں پیش کیں ۔ پنڈت پی ای ٹی جائیدادوں کے اپ گریڈیشن کرتے ہوئے اہلیت رکھنے والوں کو ترقی دی جائے مطالبہ کیا ۔ کنٹری بیوٹر وظیفہ اسکیم ( سی پی ایس) کو رد کیا جائے۔ قراردادیں منظور کی گئیں ۔ بعدازاں ضلع کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ بحیثیت صدر عبدالرزاق جنرل سکریٹری اے سمپت راؤ نائب صدر کے سری لتا ڈی سوامی گوڑ سکریٹری ‘ بی سندھیارانی کے نارائن ریڈی ‘ ٹی تروپتی ‘ پی اوما دیوی ایم چندرشیکھرریڈی کو متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT