Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / شعلہ بیان مذہبی رہنما کا بحیثیت چیف منسٹر انتخاب

شعلہ بیان مذہبی رہنما کا بحیثیت چیف منسٹر انتخاب

PATNA, MAR 23 (UNI):- Bihar Chief Minister Nitish Kumar interact with slum children during his visit to a school in Patna on Thursday. UNI PHOTO-60U

اقلیتوں کی صدمہ انگیز سرزنش، امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمزکا اداریہ
نیویارک 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی کی جانب سے ’’شعلہ بیان ہندو مذہبی رہنما‘‘ آدتیہ ناتھ یوگی کو بحیثیت چیف منسٹر اترپردیش نامزد کرنے سے مذہبی اقلیتوں کو ’’صدمہ انگیز سرزنش‘‘ ہوئی۔ امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں جس کا عنوان ’’ہندو انتہا پسندوں سے مودی کی خطرناک بغلگیری‘‘ ہے، کہاکہ اُنھوں نے 2014 ء میں اپنے انتخاب کے بعد سے ایک خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ وہ اپنی پارٹی کی سخت گیر ہندو بنیادوں کی خوشامد کرتے ہوئے سیکولر مقاصد جیسے ترقی اور معاشی فروغ کی باتیں کررہے ہیں، فوری طور پر نئی دہلی میں وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس اداریہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ اداریہ میں تحریر ہے کہ حالانکہ کوئی ’’فکرمندی کی علامات‘‘ ظاہر نہیں ہوئیں لیکن وزیراعظم ہندو انتہا پسندوں کو آگے بڑھانے کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں۔ اداریہ میں کہا گیا کہ مودی نے بظاہر مسلم اقلیت کے خلاف تشدد کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم مودی نے جب ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد حوصلہ مند ہوکر ’’اپنے ہاتھ کو بے نقاب کردیا‘‘۔ جبکہ اُن کی پارٹی نے شعلہ بیان ہندو مذہبی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ کو ریاست کا قائد نامزد کیا۔ یہ اقدام مذہبی اقلیتوں کے لئے ایک صدمہ انگیز سرزنش ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ 2019 ء میں قومی انتخابات سے پہلے سردمہری سے سیاسی حساب کتاب کیا جارہا ہے

جس کے نتیجہ میں مودی کی بی جے پی کو یقین ہوگیا ہے کہ اُس کے دیرینہ خواب یعنی سیکولر جمہوریہ کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ آدتیہ ناتھ نے اپنا سیاسی کیرئیر مسلمانوں کو بطور ’’راکھشس‘‘ پیش کرنے سے شروع کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدتیہ ناتھ کے بیانات درست تھے جبکہ اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کی حکومت ہر ایک کے لئے ہے کسی مخصوص ذات یا طبقہ کے لئے نہیں ہے لیکن اُن کے تقرر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی ہندو قوم پرستی اور معاشی ترقی میں کوئی تضاد نہیں دیکھتے۔ حالانکہ بزور طاقت ہندو قوم پرستی مسلم دشمنی کے جذبات پر انحصار کرتی ہے۔ تنقید کرتے ہوئے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں شرح ترقی کو چھٹکارا ملا لیکن ساتھ ہی ساتھ ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہوئے۔ جبکہ ہندوستان کو ہر ماہ 10 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کی طلب کی تکمیل کی جاسکے۔ اگر آدتیہ ناتھ چھٹکارا نہیں دلاسکتے تو ہر ایک کو اندیشہ ہے کہ وہ اور مودی کی پارٹی مہلک مسلم دشمنی پر اُتر آئے گی تاکہ اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے۔ مودی کے خوابوں کی سرزمین ہندوستانی اقلیتوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن جائے گی۔ ترقی کو خطرہ لاحق ہوجائے گا جس کا مودی نے تمام شہریوں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز کے اداریہ میں جو اندیشے ظاہر ہوگئے ہیں اُنھوں نے حقیقت کا روپ لینا شروع کردیا ہے۔ آدتیہ ناتھ کے بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری کے فوری بعد ملک کی سب سے بڑی ریاست میں مسالخ کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT