Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / شمالی بغداد میں خودکش بم حملہ ‘ کم از ـکم 12ہلاک

شمالی بغداد میں خودکش بم حملہ ‘ کم از ـکم 12ہلاک

BAGHDAD, JULY 24:- Residents and Iraqi security forces inspect the site where a suicide bomber detonated his explosive vest at the entrance to Kadhimiya, a mostly Shi'ite Muslim district in northwest Baghdad, Iraq July 24, 2016. REUTERS-12R

دولت اسلامیہ نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ‘ سرکاری افواج موصل کو دولت اسلامیہ سے چھیننے کوشاں
بغداد۔24جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک خودکش بم بردار نے شمالی بغداد کے شیعہ علاقہ میں ایک چوکی کے قریب حملہ کر کے کم از کم 12افراد کو ہلاک کردیا ۔ عراقی صیانتی اور طبی عہدیداروں نے کہا کہ کم از کم 22 افراد زخمی ہوگئے ‘ فوری طور پر حملہ کی ذمہ داری کسی بھی گروپ نے قبول نہیں کی ہے ۔ تاہم دولت اسلامیہ اکثر خودکش بم حملے عراقی افواج اور شیعہ اکثریت کے افراد کو نشانہ بناکر کرتا رہتا ہے جو دولت اسلامیہ کے بموجب ’’ منحرفین ‘‘ ہیں ۔ ایک خودکش بم بردار نے وسطی بغداد کے ضلع خرادہ کو جاریہ ماہ کے اوائل میں حملہ کا نشانہ بنایا تھا جس میں 292 افراد بغداد کے شمال میں ایک بارگاہ کے قریب ہلاک ہوگئے تھے ۔ چند دن بعد مزید 40 افراد کو ایک حملہ میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ دولت اسلامیہ نے 2014ء میں بغداد کے شمالی اور مغربی وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن عراقی سرکاری افواج نے حال ہی میں دوبارہ حکومت کا قبضہ  ان علاقوں پر بحال کرلیا ہے اور اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ موصل پر بھی قبضہ بحال کرلیا جائے ۔یہ دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ آخری عراقی شہر ہے لیکن جہادیوں نے میدان جنگ کی پسپائی کا بدلہ شہریوں پر حملے کرتے ہوئے لیا ہے ۔ ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ مزید بم حملے جہادیوں کی جانب سے جاری رہیں گے تاکہ وہ اپنا موقف بحال کرسکیں ۔

جہادی گروپ دولت اسلامیہ نے قبل ازیں شیعہ افراد کی ایک درگاہ واقع بلدپر چند دن قبل حملہ کرتے ہوئے 40افراد کو ہلاک کردیا تھا اور بغداد کے شمال اور مغرب میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن عراق کی سرکاری افواج نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ان علاقوں پر حکومت عراق کا قبضہ بحال کردیا ۔ ان کی فوجی کارروائی اب بھی جاری ہے اور ان کی کوشش ہے کہ دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ آخری عراقی شہر موصل پر دوبارہ حکومت کا قبضہ بحال کردیا جائے ۔ دولت اسلامیہ اپنی پسپائی کا انتقام شہریوں پر حملے کرتے ہوئے لے رہاہے حالانکہ ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں جہادیوں کے اثر و رسوخ میں مزید کمی واقع ہوگی ۔ دولت اسلامیہ نے شام میں بھی وسیع علاقہ پر قبضہ کرلیاتھا لیکن وہاں بھی اسے پسپائی کا سامنا ہے اور حکومت شام مسلسل فوجی دھاوے کرتے ہوئے دولت اسلامیہ سے ان کے زیر قبضہ علاقے چھین رہی ہے اور وہاں حکومت کا قبضہ بحال کررہی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ القاعدہ سے علحدگی اختیار کرنے کے بعد دولت اسلامیہ نے جس شوروغل کے ساتھ اپنی کارروائی کا آغاز کیا تھا اب روبہ زوال ہے اور عراق و شام دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ختم ہوتا جارہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT