Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / شمالی دیناج پور میں بھی گائے کے نام پرتشدد،گاؤں والوں نے نہیں منائی عید

شمالی دیناج پور میں بھی گائے کے نام پرتشدد،گاؤں والوں نے نہیں منائی عید

کلکتہ ۔ 27 جون (سیاست ڈاٹ کام) گائے کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات میں دن بدن ملک بھر میں اضافہ ہورہا ہے۔مغربی بنگال میں بھی ہجومی تشدد کا واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے۔ ریاست کے سرکردہ دانشور اور سیکولر لیڈران اس کو ایک خطرے کی گھنٹی کے طور پر دیکھتے ہیں۔چناں چہ کلکتہ کے ریڈروڈ پر جہاں سب سے بڑی عید کی نماز ہوتی ہے ، خطبہ عید کے دوران امام عید مولانا قاری فضل الرحمن نے شمالی دیناج پور کے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کی سیاست کیلئے یہ ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ قاری فضل الرحمن جب اس موضوع پر بول رہے تھے اس وقت عید گاہ میں ریاست کی چیف منسٹر ممتا بنرجی بھی موجود تھیں۔ قاری فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں ہریانہ میں حافظ جنید کی بھیڑ کے ذریعہ ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کی شناخت پر حملہ ہے اور مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ڈرانے و دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔امام عیدین نے مسلم ممبران پارلیمنٹ و لیڈران سے کہا کہ وہ آخر خاموش کیوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈران و سیکولر لیڈروں کو اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھ کر مطمئن ہیں کہ مغربی بنگال کبھی بھی فرقہ پرست قوتوں کے ہاتھوں یرغما ل نہیں بنے گا تو وہ خواب غفلت میں ہیں۔ بنگال میں بھی فرقہ پرست قوتیں سرگرم ہیں اور ریاست کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی دیناج پور میں تین مسلم نوجوانوں کی گائے چوری کے الزام میں پٹائی اور اس کے نتیجے میں ہلاکت سنگین واقعہ ہے۔اس کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے۔ قاری فضل الرحمن کی تقریر کا نتیجہ تھا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نماز عید الفطر کے بعد اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مغربی بنگال میں تشدد اور فرقہ واریت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT