Saturday , July 29 2017
Home / دنیا / شمالی شام کی حالیہ خانہ جنگی میں 66ہزار افراد بے گھر

شمالی شام کی حالیہ خانہ جنگی میں 66ہزار افراد بے گھر

حالیہ امن مذاکرات حوصلہ افزاء اور مثبت ‘ حکومت شام کا تبصرہ سے گریز ‘ اقوام متحدہ کی رپورٹ

بیرورت۔5مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) شام کے جنگ زدہ شمالی علاقہ میں دومحاذوں پر جنگ کرنے والے کم از کم  66ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔ دو محاذوں پر جنگ جاری ہے ۔اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی بنیادوں پر رابطہ کی رپورٹ کے بموجب 66 ہزار افراد نے شہر الباب کے 40ہزار افراد شامل ہیں ۔اقوام متحدہ کے بموجب 39766افراد جنگ کے علاقہ سے فرار ہوکر شمالی علاقوں میں جہاں باغی افواج کا قبضہ ہے فرار ہوچکے ہیں ۔ ایسے بموں اور بوبی ٹریپس سے پسپا ہونے والے باغی افراد کو جن کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے سخت خطرہ لاحق ہے ۔ 25فبروری سے مزید 26 ہزار افراد تشدد زدہ الباب سے فرار ہوچکے ہیں ۔ شام اور دولت اسلامیہ کی فوجوں میں خوفناک لڑائی جاری ہے ۔ فرار ہونے والے ہزاروں افراد امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک افواج کے زیرقبضہ قصبہ من بیچ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں پناہ گزین ہیں ۔ شام میں مارچ 2011ء سے خانہ جنگی کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے اس ملک کی تقریباً آدھی آبادی اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہوچکی ہے ۔ صوبہ حلب میں ہزاروں بے گھر شامی پناہ گزین ہیں ۔ کئی افراد ترک سرحد کے قریب پناہ گزین کیمپوں میں بھی ہیں ۔

جنیوا سے موصولہ اطلاع کے بموجب شام میں اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا نے جینیوا میں شام سے متعلق حالیہ امن مذاکرات کو حوصلہ افزا اور مثبت قرار دیا تھا۔بیان کے بموجب اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا کے مطابق ایک سال بعد ہونے والے مذاکرات میں بات چیت کا عمل سست روی کا شکار رہا اور کوئی کارنامہ نہیںہوا‘ تاہم انھوں نے مستقبل کیلئے امیدظاہر کی ۔شامی حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد کوئی تبصرہ کیے بغیر روانہ ہو گیا۔ان مذاکرات میں شامی حکومت کا ایک وفد اور تین اپوزیشن گروہوں کے اراکین شامل ہیں جو ان مذاکرات کے آغاز کے موقع پر ہی ایک دوسرے سے ملے تھے۔اپوزیشن کے رہنما نصر الہاری کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ ہم اس دور کو واضح نتائج کے بغیر ختم کر رہے ہیں۔۔۔ تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بہت مثبت تھے۔’انھوں نے کہا کہ’یہ پہلی بار تھی جب ہم نے گہرائی میں جا کر شام کے مستقبل اور سیاسی اقتدار کی منتقلی پر بات کی۔شام میں خانہ جنگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باغی چاہتے ہیں کہ صدر شام بشارالاسد اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیںلیکن حکومت حامی گروپ اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ وہ دیگر شرائط پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے آمادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے موضوع پر امن مذاکرات مسلسل ناکام ہورہے ہیں ۔ خانہ جنگی جاری ہے اور صدر شام بشارالاسد اپنے عہدہ پر برقرار رہنے کا اٹل موقف اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ حکومت کے نمائندے بھی اس موقف کے سلسلہ میں کسی سودے بازی کیلئے تیار نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT