Saturday , April 29 2017
Home / اداریہ / شمالی کوریا اور ڈونالڈ ٹرمپ

شمالی کوریا اور ڈونالڈ ٹرمپ

اب اضطرابِ دل سے جو فرصت نہیں مجھے
آپ آئیں یا نہ آئیں شکایت نہیں مجھے
شمالی کوریا اور ڈونالڈ ٹرمپ
شمالی کوریا نے بالسٹک میزائیل تجربہ کیا تو امریکہ کے بشمول جنوبی کوریا اور جاپان نے اس تجربہ کو جزیرہ نما کوریا کی امن و سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حلف لینے کے بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا 3 ہزار کیلو میٹر تک نشانہ لگانے والا بالیسٹک میزائیل تجربہ ہے۔ شمالی کوریا کی دفاعی طاقت سے پہلے ہی سے پریشان امریکہ کے لئے یہ تجربہ مزید تشویش کا باعث بن گیا۔ کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنے کی کوشش کرنے والے امریکہ کے لئے ایک اور دھکہ ہے۔ وزیراعظم جاپان شنزو ایبے نے صدر امریکہ سے اپنی ملاقات میں شمالی کوریا کی دفاعی طاقت پر خاص توجہ دلائی۔ وزیراعظم جاپان کے امریکہ کے دورے کے موقع پر ہی شمالی کوریا کا میزائیل تجربہ امریکہ ۔ جاپان تعلقات کو مزید قریب کرنے کا موقع سمجھا جارہا ہے۔ شمالی کوریا سے پریشان امریکہ اس وقت جنوبی کوریا اور جاپان کو قریب کرنے اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کوشاں ہے۔ اس سے پہلے بھی شمالی کوریا کے مختلف دفاعی تجربات پر امریکہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شمالی کوریا اور ایران کے نیوکلیر پروگرام کے بارے میں امریکہ کی دوہری رائے سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے میں امریکہ کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ شمالی کوریا کو پابند کرنے کے اختیار و ہمت سے وہ عاری نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اب تک شمالی کوریا کی بڑھتی نیوکلیر طاقت کو روکنے میں ناکام ہے۔ نیوکلیر پروگرام ترک کرنے کے لئے شمالی کوریا کو راضی نہیں کرایا جاسکا۔ امریکہ برسوں سے شمالی کوریا کو نیوکلیر طاقت کا حامل ملک بننے سے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر اس میں وہ ناکام ہی ثابت ہوا۔ شمالی کوریا کی نوجوان قیادت نے اپنے ملک کی دفاعی طاقت کو اس کا حق قرار دیا ہے اس لئے اس نے بین الاقوامی مخالفت اور سخت پابندیوں کی پرواہ نہیں کی اور اپنے نیوکلیر اور راکٹ پروگرام میں پہلے سے زیادہ تیزی لائی ہے۔ صدر امریکہ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو یکا و تنہا کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحی خلاف ورزی کرنے کے باوجود ٹرمپ اس ملک کو اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے خوف زدہ نہیں کرسکیں گے۔ چین کے ساتھ دوستی بڑھانے ٹرمپ کی کوششیں بھی شمالی کوریا کے اس میزائیل تجربہ کی بڑی وجہ ہے۔ شمالی کوریا کی بڑھتی دفاعی و نیوکلیر طاقت پر شکنجہ کسنے کے لئے چین پر دباؤ ڈالنا امریکہ کے حق میں مفید ہے۔ اگرچیکہ امریکہ کو اس بات کا شدید احساس اور غم ہے کہ چین نے اس سلسلہ میں اس کی باتوں کو خاطر میں نہیں لایا ہے لیکن تازہ میزائیل تجربہ امریکہ اور جاپان کے لئے فکرمندی کا باعث بن چکا ہے۔ گزشتہ ہفتہ صدر چین ژی پنگ سے فون پر ٹرمپ کی بات چیت کے بعد وزیراعظم جاپان کا دورہ امریکہ عالمی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کا پہلا باب کھول دینے کی ایک پہل ہے۔ ٹرمپ نے جاپان کو امریکہ کا صد فیصد حلیف ملک قرار دیا اور اس میزائیل تجربہ کی وجہ سے لاحق ہونے والی فکر کو دور کرنے جاپان کا بھرپور ساتھ دینے کا عہد کیا لیکن چین جس ملک کا مضبوط حلیف ملک ہے وہ امریکی تحدیدات کی پرواہ نہیں کرتا لیکن ٹرمپ اور ان کے معاونین نے شمالی کوریا کے خلاف سخت ترین معاشی فیصلہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو بحری اور فضائی سطح پر نئے میزائیل دفاعی نظام کو مزید بھڑکانے یا مشتعل کرنے کا باعث ہوگا۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا سے نمٹنے سخت اقدامات کا اشارہ تو دیا ہے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ کی پالیسی ان کے پیشرو اوباما کی نام نہاد صبر و تحمل کی پالیسی سے روگردانی کے مترادف ہوگی۔ فی الحال شمالی کوریا نے اپنے میزائیل تجربات میں نیوکلیر ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا ہے۔ تاہم گزشتہ سال اپنے پانچویں نیوکلیر تجربہ کے بعد امریکہ پر نیوکلیر حملے کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونے کا ادعا کیا تھا۔ ایران اور دیگر مسلم ممالک کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کرنے والا امریکہ اور ٹرمپ نظم و نسق شمالی کوریا کو قابو میں کرنے سے بے بس نظر آرہا ہے۔شمالی کوریا نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے صدر کی دھمکیوں سے بالکل خوفزدہ نہیں ہے اور اپنا کام کرتا رہے گا۔ اس کے باوجود امریکہ اس پر لگام کسنے کے موقف میں نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT