Sunday , May 28 2017
Home / Top Stories / شمالی کوریا میں زبردست فوجی پریڈ ۔ بیالسٹک میزائیلس کی نمائش

شمالی کوریا میں زبردست فوجی پریڈ ۔ بیالسٹک میزائیلس کی نمائش

صدر کم جونگ ان نے مشاہدہ کیا ۔ امریکہ سے درپیش کسی بھی خطرہ کا منہ توڑ جواب دینے کا انتباہ

پیانگ یانگ 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریا نے آج ایک بڑی فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جس میں اس کے بین براعظمی بیالسٹک میزائیل بھی شامل کئے گئے تھے ۔ یہ پریڈ وسطی پیانگ یانگ میں منعقد کی گئی جس کا شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے پرجوش انداز میں مشاہدہ کیا ۔ شمالی کوریا نے اپنی بڑھتی ہوئی عصری فوجی طاقت کا علاقہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مظاہرہ کیا ہے ۔ کم جونگ ان نے اس پریڈ سے خطاب نہیں کیا جو ملک کے بانی حکمران کم دوم سونگ کے یوم پیدائش کے موع پر منعقد کی جاتی ہے ۔ ملک کے ایک اعلی عہدیدار نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا ‘ امریکہ کی جانب سے پیش آنے والے کسی بھی خطرہ سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ۔ چوئے ریانگ ہئی نے کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ علاقہ میں امریکی افواج کو روانہ کرتے ہوئے کوریائی جزیرہ نما میں جنگ جیسی صورتحال پیدا کرنے کے خاطی ہیں۔ شمالی کوریا میں نمبر 2 عہدہ کے حامل سمجھے جانے والے چوئے ریانگ ہئی نے کہا کہ ہم ایک مکمل جنگ کا جواب ایک مکمل جنگ سے دینگے اور ایک نیوکلئیر جنگ کا جواب اپنے انداز کے نیوکلئیر حملے سے دینگے ۔ یہ پریڈ شمالی کوریا کی سب سے اہم تعطیل کا اہم عنصر سمجھی جاتی ہے اور یہ ایسے وقت میں منقد ہوئی جب بین الاقوامی سطح پر یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ شمالی کوریا اپنے چھٹے نیوکلئیر تجربہ کی یا پھر ایک بڑے میزائیل تجربہ کی تیاری کر رہا ہے ۔ شبہ ہے کہ شمالی کوریا ایسے میزائیل کا تجربہ کرسکتا ہے جو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساحل امریکہ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ شمالی کوریا کہتا ہے کہ عراق میں صدام حسین کی معزولی اور لیبیا میں معمر قذافی کی معزولی جیسے واقعات کی وجہ سے اس کیلئے ہتھیار رکھنا ضروری ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ صدام حسین اور کرنل قذافی کے بعد نیوکلئیر ہتھیار نہیں تھے اس لئے انہیں معزول کردیا جاسکا ہے ۔

جنرل اسٹاف شمالی کوریائی آرمی کے کل جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ ہمارے ساتھ بھی لیبیا اور عراق جیسا سلوک کرتا ہے تو وہ غلطی پر ہے ۔ عراق اور لیبیا جارحیت کے متاثر ہیں اور اب تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ شام جیسا رویہ بھی رکھنے کی غلطی نہیں کی جانی چاہئے ۔ شام نے اس پر حملہ کئے جانے کے بعد بھی فوری جوابی کارروائی نہیں کی ہے ۔ سرکاری کوریائی سنٹرل نیوز ایجنسی نے یہ اطلاع دی ۔ اس کے علاوہ کل شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جو ٹوئیٹس کئے ہیں ان کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹس میں کہا تھا کہ شمالی کوریا پریشانی مول لے رہا ہے ۔ نائب وزیر خارجہ ہان سونگ رئیول نے کہا تھا کہ ٹرمپ ہمیشہ ہی اپنے جارحانہ الفاظ کے ذریعہ اشتعال انگیزی کرتے ہیں۔ امریکہ نے جاریہ مہینے کے اوائل میں شام میں مبینہ کیمیاوی حملوں کے جواب میں جو فضائی حملے کئے ہیں اور جزیرہ نما کوریا جو جنگی جہاز روانہ کئے ہیں ان کی وجہ سے جنوبی کوریا میں یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے ۔ شمالی کوریا نے بھی امرکہ کی جنوبی کوریا کے ساتھ فی الحال جاری فوجی مشقوں پر بھی تنقید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دراصل امریکہ شمالی کوریا پر قبضہ کا ریہرسل کر رہا ہے ۔ تاہم امریکی عہدیداروں نے کل کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک پالیسی اختیار کی ہے کہ شمالی کوریا پر چین کی مدد سے دباؤ میں اضافہ کیا جاے ۔ شمالی کوریا کا واحد بڑا حلیف چین ہی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکہ کم کے اقتدار کو ختم کرنے کیلئے فوجی کارروائی کی بجائے دباؤ کی پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے ۔ امریکہ کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر بتایا کہ امریکہ ‘ کسی نیوکلئیر تجربہ یا کسی میزائیل تجربہ کے جواب میں شمالی کوریا کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتا ۔ آج کی پریڈ میں جب کم جون ان پہونچے تو ان کا زبردست تالیوں کی گونج میں استقبال کیا گیا ۔
وہ سوٹ اور ٹائی زیب تن کئے ہوئے تھے ۔ اس پریڈ میں ملک کی زبردست فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور اس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ ان میں فوجی اور عام شہری بھی شامل تھے ۔ عام شہریوں کو گذشتہ ایک ہفتے سے پریڈ کی تربیت دی جا رہی تھی ۔ بیرونی فوجی تجزیہ نگاروں کیلئے تاہم اس پریڈ میں سب سے زیادہ اہمیت ان ہتھیاروں کی تھی جنہیں شمالی کوریا نے پریڈ میں شامل کیا تھا ۔ پریڈ میں تین بڑے راکٹس بھی شامل کئے گئے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT