Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا میں زیادہ سے زیادہ بالسٹک میزائلس تیار کرنے کِم جونگ اُن کی ہدایت

شمالی کوریا میں زیادہ سے زیادہ بالسٹک میزائلس تیار کرنے کِم جونگ اُن کی ہدایت

 

ا مریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ جنگی مشقیں شمالی کوریا پر حملہ کی ریہرسل
ٹرمپ کے اناپ شناپ بیانات کا خمیازہ وائیٹ ہاؤس اسٹاف کو بھگتنا پڑتا ہے
اکیڈیمی آف ڈیفنس سائنس میں کیمیکل میٹیریل انسٹی ٹیوٹ کا دورہ

سیئول ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن نے حکم دیا ہے کہ ملک میں اب زیادہ سے زیادہ انٹر کانٹیننل بالسٹک میزائلس تیار کئے جائیں ۔ یہی نہیں انہوں نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ راکٹ انجنوں کی تیاری بھی اب شمالی کوریا میں ہی کی جائے گی تاکہ ہم امریکہ کو زیادہ سے زیادہ ہراساں کرتے ہوئے دباؤ میں رکھیں ۔ پیانگ یانگ کے میڈیا نے یہ اطلاع دی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیحد دلچسپ ہوگا کہ جاریہ سال کے اوائل سے ہی شمالی کوریا کے نیوکلیر پروگرام ، میزائیل ٹسٹنگ اور بین براعظمی بالسٹک میزائیل داغے جانے کے اہم واقعات میڈیا پر چھائے رہے جب کہ صرف گزشتہ ماہ ہی دو بالسٹک میزائیلس داغے گئے تھے جس نے امریکہ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں ۔ کم جونگ اُن نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ شمالی کوریا کے میزائیلس امریکہ کو بھی تباہ کردیں گے اور اس کے بعد شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جہاں کبھی امریکہ کا پلڑا بھاری نظر آتا تھا تو کبھی شمالی کوریا کا ۔ تاہم عالمی برادری نے ایک بات تو ضرور محسوس کرلی کہ شمالی کوریا کے انتباہ کو تن آسانی سے لینا غیر دانشمندی ہوگی ۔ ونیزویلا اور ایران کی طرح شمالی کوریا بھی امریکہ کے ان چند حریفوں میں شامل ہوگیا ہے جن کے خلاف امریکہ بیان بازی تو بہت کرتا ہے لیکن فوج کشی سے ڈرتا ہے ۔ وجہ سب جانتے ہیں کہ آج عصری ہتھیاروں کا زمانہ ہے اور دنیا کے چند ممالک کے سوائے ، سبھی ممالک نیوکلیر توانائی کے حامل ہیں ۔ چین اور ہندوستان کے درمیان سکم کے ڈوکلام علاقہ میں پائے جانے والے تنازعہ پر بھی ہندوستان نے چین کو اپنے عصری ہونے کا انتباہ دیا تھا کہ ہندوستان کو اب 1962 کا ہندوستان نہ سمجھا جائے ۔ اس بات پر چین بھلا کب خاموش رہتا ۔ اس نے بھی کہہ دیا کہ چین بھی 1962 کا چین نہیں ہے ۔ ان بیان بازیوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ملک اپنی نیوکلیر توانائی پر فخر نہیں بلکہ غرور کررہا ہے اور غرور کرنے والے کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے ۔ تاہم یہی بات کم جونگ اُن کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی کیوں کہ امریکہ کا غرور شمالی کوریا کے غرور سے زیادہ ہے اور کِم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ بیان بازیوں میں کمی کے بعد امریکہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا جو سالانہ طور پر اُلچی فریڈم گارڈین ملٹری ڈرل ( مشق ) کے نام سے کی جاتی ہے ۔ جس کے بارے میں شمالی کوریا نے ہمیشہ ازراہ مذاق یہی کہا ہے کہ دونوں ممالک شمالی کوریا پر فوج کشی کے لیے ریہرسل کررہے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک ’ پاگل شخص ‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ موصوف اپنے ٹوئیٹر پر اوٹ پٹانگ بیانات دیتے رہتے ہیں اور اپنے عجیب و غریب مضامین کے ذریعہ اپنے آلودہ خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے وائیٹ ہاؤس اسٹاف کو سخت تنقیدوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کے سی این اے کی ہی اطلاع کے مطابق کم نے اکیڈیمی آف ڈیفنس سائنس پہنچ کر کیمیکل میٹرئیل انسٹی ٹیوٹ کا معائنہ کیا جہاں شمالی کوریا کے میزائلس تیار کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے وہاں موجود اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو مزید مضبوط ایندھن والے راکٹ انجن تیار کرنے کی ہدایت کی اور کچھ اہم مشورے بھی دئیے ۔ اس کی تیاری میں کاربن فائبر کی بنوائی ، کیمیکل ڈپوزیشن اور اعلیٰ دباؤ کے حامل سیال ڈپوزیشن شامل ہیں ۔ حالانکہ شمالی کوریا نے امریکی پیسفیک سرحدی علاقہ گوام کو نشانہ بنانے کا انتباہ دیا تھا لیکن اب تک اس پر عمل آوری نہیں کی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نے فی الحال اس منصوبہ کو ترجیح نہیں دی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹرسن نے گذشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو یہ کہہ کر کم کرنے کی پوری کوشش کی کہ ’ شمالی کوریا کی اس بات پر ستائش کی جانی چاہئے کہ اقوام متحدہ کی نئی تحدیدات عائد ہونے کے بعد اس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نیوکلیر میزائل ٹسٹ نہیں کیا ۔۔

 

 

TOPPOPULARRECENT