Sunday , April 30 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا کا بین البراعظمی میزائل تجربہ ‘دائرہ کار 3ہزار کلومیٹر

شمالی کوریا کا بین البراعظمی میزائل تجربہ ‘دائرہ کار 3ہزار کلومیٹر

سیول، 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریا نے کوریائی جزیرہ نما کے مشرقی ساحل پر آج ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔امریکی اور جنوبی کوریا کے فوجی ذرائع نے کہا کہ اس تجربہ کی طاقت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بین براعظمی میزائل نہیں ہے ۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو میزائل تجربہ کے بارے میں بتایا گیا ہے اور صدر دفتر مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ تاہم ٹرمپ نے میزائلتجربہ کے سوال پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہجنوبی کوریا اورامریکہ میزائل تجربہ کی تفصیلی معلومات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کی یون ھاپ نیوز ایجنسی نے کہا کہ فوج تجربہ کا تجزیہ کر رہی ہے کہ یہ درمیانی فاصلے کی میزائل ہے جس کی دائرہ کار تین ہزار کلومیٹر ہے ۔امریکہ کے محکمہ دفاعیملازم کے مطابق امریکی فوج کو بھی شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربہ کا پتہ چلا ہے اور اس کا تجزیہ کیا جا رہا ہے ۔جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد اس قسم کا پہلا تجربہ ہے ۔جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ اسے مقامی وقت کے مطابق صبح 7:55پر لانچ کیا گیا اور یہ مشرق کی سمت جاپانی سمندر کی طرف 500 کلومیٹر تک گیا۔ آج کیا جانے والا تجربہ شمالی پیونگان صوبے میں کے ایئر بیس سے کیا گیا اور یہ علاقہ کوریائی خطے کے مغرب میں واقع ہے ۔

امریکی دفاعی حکام نے نیوز ایجنسی رائٹر کو بتایا ہے کہ واشنگٹن شمالی کوریا کے میزائل لانچ کی تصدیق کرتا ہے کہ ‘ہمیں شمالی کوریا میں میزائل لانچ کیے جانے کے بارے میں پتہ چلا ہے ۔’جنوبی کوریا کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ‘شمالی کوریا کی جانب سے مستقل اشتعال انگیزی کم جونگ ان کے دورحکومت کی نامعقولیت کا مظہر ہے  -شمالی کوریا نے گذشتہ سال کئی جوہری تجربے کئے اور اشتعال انگیز بیانات دیتا رہا ہے ۔ شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل میزائل اور جوہری تجربے اور ان کے جارحانہ بیانات خطے میں خطرے اور کشیدگی کا موجب ہیں۔جاپان میں کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیہودے سوگا نے کہا کہ میزائل جاپان کی عملداری میں آنے والے پانیوں تک نہیں پہنچا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ جاپان شمالی کوریا سے اس کے متعلق ‘سخت احتجاج’ درج کرائے گا۔تاہم ابھی تک شمالی کوریا کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ-اُن نے جنوری میں کہا تھا کہ ان کا ملک طویل فاصلے کے میزائلتجربہ کرنے والا ہے جس میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہوگی۔گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار کا استعمال کیا تو ‘اس کا مؤثر اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔’ اس کے ساتھ انھوں نے جنوبی کوریا میں امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تعیناتی کی بھی تصدیق کی ہے ۔شمالی کوریا نے گزشتہ سال اپنا پانچواں جوہری تجربہ کیا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تھا وہ امریکہ پر ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو چکا ہے ۔ تاہم سکیورٹی ماہرین اس دعوے سے متفق ن

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT