Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / شمالی کوریا کا میزائیل تجربہ

شمالی کوریا کا میزائیل تجربہ

مری حالت تو سب کے سامنے ہے
کسی کو پھر کبھی تنہا نہ کیجئے
شمالی کوریا کا میزائیل تجربہ
شمالی کوریا کے نیوکلیئر صلاحیتوں میں دن بہ دن اضافہ امریکہ کے بشمول کئی یوروپی ممالک اور چین کیلئے خطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔ اگرچیکہ شمالی کوریا نے اپنے خلائی مشن پروگرام کو مکمل پرامن بتایا ہے۔ بیرونی تجزیہ کاروں اور مغربی ملکوں کو یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ شمالی کوریا بین براعظمی بالسٹک میزائیلس کا تجربہ کررہا ہے۔ ایسے بالسٹک میزائیلس کے تجربے سابق میں امریکہ اور سابق سوویت یونین نے بھی کئے تھے۔ ان ملکوں نے خلاء میں سٹلائیٹس روانہ کرنے کیلئے اسی نوعیت کے راکٹس استعمال کئے تھے مگر اس مرتبہ شمالی کوریا کے تجربہ کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے مغربی ملکوں نے جو اندیشہ ظاہر کیا ہے اس پر اقوام متحدہ نے بھی اپنے ردعمل میں شمالی کوریا کے راکٹ تجربہ کی مذمت کی۔ دراصل شمالی کوریائی نیوکلیئر صلاحیتوں سے واقف کار ملکوں کو ڈر ہورہا ہے کہ کہیں یہ ملک مستقبل میں خطرات کا پہاڑ کھڑا نہ کردے۔ طویل مسافت والے بین براعظمی بالسٹک میزائیل کو فروغ دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کیلئے عصری ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف مؤثر تجربات کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ قومی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی نیوکلیئر صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے اور اس ملک کی صلاحیتوں کے تعلق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شمالی کوریا میں اس طرح کے تجربات کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری سے ہی نیوکلیئر مسلح بین براعظمی بالسٹک میزائیل کیلئے تجربہ کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ شمالی کوریا کا یہ بالسٹک میزائیل امریکہ، مین لینڈ، امریکی فوجی ٹھکانوں کے لئے شدید خطرہ سمجھا جارہا ہے۔ اگر شمالی کوریا کے پاس ایک درجن نیوکلیئر ہتھیار ہیں تو اس سے امریکہ کے بشمول پیسیفک ممالک اور ہوائی کیلئے خطرہ ہوگا۔ ممنوعہ میزائیل ٹیکنالوجی کی مدد سے تجربہ کرنا تو کئی شکوک و شبہات کو پیدا کرتا ہے۔ جنوبی کوریا، جاپان کو شمالی کوریا کی نیوکلیئر صلاحیتوں میں اضافہ کا ڈر ہے تو اس ملک کو عالمی امن کی صف میں لانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ شمالی کوریا نے سال 2006ء سے اب تک 3 مرتبہ زیرزمین نیوکلیئر بم کے تجربات کئے ہیں تو عالمی امن کیلئے خطرہ سمجھنے والے ملکوں کو اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ شمالی کوریا کو عالمی وعدوں کی پاسداری کرنے کی ہدایت دینے والے ملک امریکہ کو مستقبل میں ایسی کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہیں کرنی چاہئے جس سے سارے خطہ میں گڑبڑ پیدا ہوجائے۔ عالمی برادری نے ہمیشہ شمالی کوریا کی نیوکلیئر طاقت پر تحفظات رکھے ہیں اور نیوکلیئر پروگرام کے باعث شمالی کوریا پر پابندیاں بھی عائد کی جاچکی تھیں۔ امریکہ نے مبینہ طور پر اسلحہ کے پھیلاؤ کی سرگرمی کونوٹ کرتے ہوئے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں بھی عائد کی تھیں اس کے باوجود اس ملک نے اپنی نیوکلیئر صلاحیتوں میں اضافہ کرلیا تو وہ امریکہ کے بشمول کئی ملکوں کے خلاف اپنا دفاع کرسکتا ہے۔ شمالی کوریا نے ماضی میں اپنے دشمن ملکوں کی دھمکیوں اور کارروائیوں کو دیکھ کرہی فوج کو اگلے محاذ پر جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔ یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جو پابندیوں کو عائد کرنے کے باوجود رونما ہوئی ہیں تو امریکہ کے بشمول تمام ملکوں کو اپنی بالادستی کے بخار سے باہر آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ شمالی کوریا کی نیوکلیئر صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی اصل وجہ جنوبی کوریا ہے جو آئے دن شمالی کوریا کو دھمکیاں دیتے آرہا ہے۔ پڑوسی ملکوں کے حقوق کو یکطرفہ سوچ اور نظریہ سے دیکھا جائے تو مسائل پیدا ہوں گے۔ دو ملکوں کی اشتعال انگیزیوں سے جو صورتحال پیدا ہوتی ہے وہ امن کیلئے بلاشبہ ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔ شمالی کوریا اپنی نیوکلیئر ٹیکنالوجی صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے طویل مدت سے سرگرم رہا ہے۔ اس نے 1990ء کے دہے سے ہی 3 مرحلوں میں طویل مسافت پر ضرب لگانے والے میزائیلس کی تیاری کا کام شروع کیا تھا۔ اس نے فبروری 2013ء میں اعلان کیا تھا کہ اس کے پاس نیوکلیئر وارہیڈس لے جانے کی صلاحیت والے میزائیلس ہیں لیکن اس کے دعویٰ کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اب امریکہ کے بشمول تمام مغربی ملکوں کو شمالی کوریا کے نوجواں حکمراں کم جانگ دوم کی پالیسیوں نے پریشان کر رکھا ہے۔ شمالی کوریا کے موجودہ موقف پر ساری دنیا تشویش کا شکار ہے اور اقوام متحدہ نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے اس پیشرفت سنجیدگی سے نوٹ لیا لیکن ضرورت اس بات کی ہیکہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں جن کے نتیجہ میں عالمی امن کو خطرہ لاحق نہ ہوں۔ ماضی میں کئی ممالک کو تحدیدات کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ بھی حقیقت ہیکہ خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT