Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / شمالی کوریا کا چھٹے ہائیڈروجن بم تجربہ کا دعویٰ

شمالی کوریا کا چھٹے ہائیڈروجن بم تجربہ کا دعویٰ

اقوام متحدہ ‘ روس ‘ چین ‘ جاپان ‘ فرانس کی مذمت ‘ جنوبی کوریا ۔امریکہ آزادانہ تجارت معاہدہ سے دستبرداری پر غور

سیول، 3 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریا نے آج دعوی کیا کہ اس نے ہائی ٹیک اور انتہائی صلاحیت والے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ یہ تجربہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام نے کہا کہ شمالی کوریا کے میزائل ٹیسٹنگ ایریا کے نزدیک زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں جو پہلے کے جھٹکوں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ طاقتور تھے ۔ اس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شمالی کوریا نے اپنا چھٹا ایٹمی تجربہ کیا ہے ۔ چند گھنٹوں کے بعد شمالی کوریا نے یہ واضح کیا کہ اس نے ہائڈروجن بم کا تجربہ کیا۔ امریکی ارضریاتی سروے کے مطابق اس تجربہ کی وجہ سے زلزلہ کے جھٹکے جیسی شدت محسوس ہوئی تھی جو ریختر پیمانے پر 6.3 اندازہ کی گئی ہے ۔ ویانا سے موصولہ اطلاع کے بموجب اقواممتحدہ نے شمالی کوریا کے تجربہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے ۔ ماسکو سے اطلاع کے بموجب روس نے شمالی کوریا کے نیوکلیئر تجربہ کی مذمت کرتے ہوئے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں پُرسکون رہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ بیجنگ سے اطلاع کے بموجب چین نے شمالی کوریا کو انتباہ دیا کہ غلط کارروائیاں فوری روک دی جانی چاہیئے ۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا سفارتی حلیف ہے ۔ دریں اثناء صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیراعظم جاپان شن زوایب نے شمالی کوریا سے لاحق حقیقی خطرے کے موضوع پر باہم تبادلہ خیال کیا ۔ اس تبادلہ خیال کی اہمیت میں اس لئے اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ شمالی کوریا نے اپنے چھٹویں ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے ۔ سیول سے موصولہ اطلاع کے بموجب جنوبی کوریا نے کہا کہ شمالی کوریا کا چھٹواں ہائیڈروجن بم تجربہ طویل مسافتی میزائل سے بھی آراستہ کیا جاسکتا ہے ۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ منصوبہ بنارہے ہیں کہ اپنے قریبی حلیف جنوبی کوریا کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدہ سے دستبرداری اختیار کرلیں ۔ اس اقدام کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے درمیان تازہ معاشی اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ جب کہ شمالی کوریا کے اقدامات کی بنا پر پہلے ہی سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوچکا ہے ۔ وائٹ ہاؤز کے بیان کے بموجب یہ تجویز ہنوز زیرغور ہے اور اس کا اعلان وقت آنے پر کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT