Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا کے تجربے کی مذمت ،سخت پابندیوں کا مطالبہ

شمالی کوریا کے تجربے کی مذمت ،سخت پابندیوں کا مطالبہ

نیویارک ۔8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کے تجربے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرے گی۔شمالی کوریا کے راکٹ کے تجربے کے بعد جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مختصر اعلامیے میں شمالی کوریا کے اقدام کو خطرناک قرار دیا گیا۔اعلامیہ میں شمالی کوریا کے تجربے کو سلامتی کونسل کی قرارداد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سلامتی کونسل جلد شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی قرارداد پر عملدرآمد کرے گی۔امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں جبکہ چین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیانگ یانگ پر پابندیوں سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ راکٹ سیٹیلائٹ کو مدار میں بھیجنے کے لیے کیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس کا مقصد بین الابراعظمی میزائل تیار کرنا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیرسمینتھا پاور نے کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ’سلامتی کونسل سخت سزا‘ دے۔انھوں نے کہا کہ ’معمول کے مطابق کام نہیں چلے گا۔ ہمیں کچھ ایسا کرنا ہے جو سخت ہو۔‘ اقوام متحدہ میں جاپان کے سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت ہونی چاہیے کیونکہ ’موجودہ پابندیاں شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہیں روک سکیں۔‘ناقدین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے یہ تجربہ ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا ہے۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر امریکہ اور جاپان سمیت کئی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔جنوبی کوریا کی فوج اور امریکی محکمہ دفاع نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی تصدیق کی تھی۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ راکٹ ملک کے شمالی مغربی کے علاقے میں میزائل بیس سے داغا گیا جو جاپان کے جنوبی اکینیاوا جزیرے کے قریب سے گزرا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔امریکہ کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے کہا کہ شمالی کوریا کی بیالسٹک میزائل ٹیکنالوجی عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کیلئے خطرہ ہے۔انھوں نے کہا شمالی کوریا کے ان اقدامات کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے اس تجربہ کے بعد کہا کہ ’یہ مکمل طور ناقابلِ برداشت ہے۔‘ اور یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت شمالی کوریا پر جوہری اور بیالسٹک میزائل کے تجربے کرنے پر پابندی عائد ہے۔جنوبی کوریا کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے یہ تجربے ملک کے سابق متوفی حکمران کم جان اْن کی سالگرہ سے قبل کیے ہیں۔رواں سال چھ جنوری کوہائیڈروجن بم کا تجربہ کے بعد عالمی سطح پر شمالی کوریا کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT