Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / ’’شمالی کوریا کے سائنسداں چھوٹے نیوکلیئر بم بناچکے ہیں‘‘

’’شمالی کوریا کے سائنسداں چھوٹے نیوکلیئر بم بناچکے ہیں‘‘

سربراہ مملکت کم جونگ ان کی جانب سے نیوکلیئر تنصیبات کے دورہ کے بعد دعویٰ
سیئول۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے سائنس داں اتنے چھوٹے جوہری بم تیار کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو بیالسٹک میزائیل پر بھی نصب کئے جاسکتے ہیں۔شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے ماضی میں بھی یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے تاہم پہلی مرتبہ یہ دعویٰ ملک کے سربراہ سے براہ راست منسوب کیا گیا ہے۔دوسری جانب ماہرین ،طویل عرصے سے شمالی کوریا کے اس دعوے پر شبہ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے بیالسٹک میزائلس کی تیاری میں تیزی کا جاریہ سال کے آغاز میں نیوکلیئر اور میزائل تجربے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ فوجی مشقوں کے آغاز کے بعد حال ہی میں شمالی کوریا نے دونوں ملکوں پر بلاامتیاز نیوکلیئر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔ کم جونگ ان کی جانب سے یہ دعویٰ چہارشنبہ کو نیوکلیئر تنصیبات کے دورہ کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے سی این اے کے مطابق ملک کے حکمراں کا کہنا ہے کہ ’نیوکلیئر  وارہیڈز کا معیار برقرار رکھتے ہوئے انھیں بیالسٹک میزائلس کی جسامت کے لحاظ سے چھوٹا کیا گیا ہے۔ ‘انھوں نے مزید کہا کہ اسے کسی بھی قسم کی مزاحمت کے خلاف بہترین دفاع کہا جاسکتا ہے،کے سی این اے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہائیڈروجن بموں میں استعمال ہونے والے ان نیوکلیئر وارہیڈز کا بھی معائنہ کیا جو خاص طور پر تھرمو نیوکلیئر اثرات مرتب کرنے کیلئے تیار کیے گئے ہیں۔ شمالی کوریا کا جوہری وارہیڈز بیالسٹک میزائلوں پر نصب کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ سچ ہونے کی صورت میں اس کے پڑوسی ممالک اور امریکہ کیلئے خطرات میں اضافہ کے خدشات بڑھ جائیں گے۔ جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرٹس سکپراٹی نے اکتوبر2014ء  میں صحافیوں کوبتایا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس چھوٹے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ مئی 2015ء میں شمالی کوریا کے نیشنل ڈیفنس کمیشن نے کہا تھا کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کو چھوٹی جسامت میں تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔تاہم نیوکلیئر ہتھیاروں سے متعلق ان دعوؤں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT