Sunday , July 23 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا کے نئے میزائل کا تجربہ ‘جنوبی کوریا کو چیلنج

شمالی کوریا کے نئے میزائل کا تجربہ ‘جنوبی کوریا کو چیلنج

اعتدال پسند نئے صدر جنوبی کوریا شمالی کوریا سے امن معاہدہ کے خواہاں
سیول ۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریا نے اپنے نئے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا جو بحر جاپان میں ختم ہوا ۔ جنوبی کوریا کے جاپانی اور امریکی افواج نے کہا کہ یہ تجربہ جنوبی کوریا کے نئے صدر کے چار دن قبل انتخاب کو راست چیلنج ہے ‘ جو بالواسطہ طور پر امریکی ‘ جاپانی اور یورپی بحریوں کیلئے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ امریکہ ‘ جنوبی کوریا اور جاپانے نے مشترکہ طور پر بحرالکاہل پر جنگی مشقیں کی تھیں فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ بحرالبراعظمی میزائل کی نوعیت کیا تھا ۔ حالانکہ امریکہ کی بحرالکاہل کی کمانڈ نے کہا کہ یہ تجربہ مستقل نہیں ہے اور بین البراعظمی میزائل کا تجربہ ہے ۔ بیرونی فوجیں شمالی کوریا کے اس تجربہ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جب کہ شمالی کوریا نے مقبول عام تجربے مختصر مسافتی میزائلز کے کئے ہیں ۔ یہ ٹکنالوجی پر مہارت حاصل کرنے کی کوشش میں کی ہے اور میزائلز پر  نیوکلیئر وار ہیڈ نصب کرنے کی کوشش کررہا ہے جو امریکہ کے قلب تک پہنچ سکے ۔ ماضی میں شمالی کوریا کی مہم اتوار کے تجربہ کی بہ نسبت زیادہ طویل مسافت طئے کرچکی ہے اور جاپان کے قریب تک پہنچ گئی تھی۔ موجودہ تجربہ اعلیٰ سطحی ناکامیوں کے سلسلہ کی تخلیق کرتا نظر آتا ہے ۔ میزائل کی نوعیت جو کچھ بھی ہو اس سے جنوبی کوریا کے قائد مون جے ان کو شمالی کوریا کے ساتھ معاہدہ پر مجبور کرنا ہے ۔ کم از کم عارضی طور پر کوئی معاہدہ طئے کرنے کیلئے مجبور کرنا ہے ۔ اندرون ملک معاشی ایجنڈہ اپنے اقتدار کے پہلے دور میں اپنی اولین ترجیح بنانے کا اعلان کرنے والے مون جے ان کو اپنے کنزرویٹیو پیشروؤں خاص طور پر سختی سے مذمت کرچکے ہیں اور قومی سلامتی کے اجلاس میں معاشی ترقی کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں ۔ قومی صیانتی ہنگامی اجلاس کے دوران یہ  تجربہ جنوبی کوریا کی نئی قیادت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ مون ایک فراخ دل قائد ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے کردار کے ابتدائی دنوں میں ہی شمالی کوریا کے ساتھ امن معاہدہ طئے پاجائے ۔ جب کہ اُن کے پیشرو شمالی کوریا کے ایسے تجربات پر سخت برہمی کا اظہار کرچکے اور اس کی مذمت کرچکے ہیں ۔ موجودہ صدر نے اس حقیقت پر گہرے افسوس کا اظہار کیاہے کہ موجودہ اشتعال انگیزی نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دن بعد منظر عام پر آئی ہیں ۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT