Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا کے نیوکلیئر عزائم کا نتیجہ صرف حکومت کا زوال

شمالی کوریا کے نیوکلیئر عزائم کا نتیجہ صرف حکومت کا زوال

سیول ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا کی صدر پارک گیؤن ہائی نے ہمسایہ ملک شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنا نیوکلیئر پروگرام بند نہیں کرتا تو صرف تباہی ہی اس کا مقدر ہوگی۔منگل کو دارالحکومت سیئول میں پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے صدر پارک نے کہا کہ شمالی کوریا کو اس حقیقت کا ادراک کروانا لازمی ہے کہ اس کے نیوکلیئر عزائم کا نتیجہ صرف ’حکومت کے زوال‘ کے عمل میں تیزی کی شکل میں نکلے گا۔ خطاب میں جنوبی کوریا کی صدر نے شمالی کوریا کے اشتراک سے چلنے والے کائسونگ صنعتی پارک کی بندش کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے اور ان کا ملک مزید ’سخت اور کارگر‘ اقدامات کرے گا۔ اگرچہ صدر پارک نے مزید پابندیوں کی تفصیل نہیں بتائی لیکن ممکنہ طور پر جنوبی کوریا ایسے بحری جہازوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی لگا سکتا ہے جو شمالی کوریا کی کسی بندرگاہ سے ہو کر آ رہے ہوں۔ ادھر اقوامِ متحدہ میں جنوبی کوریا کے مندوب نے سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے راکٹ کے تجربے کے بعد اس کے خلاف مجوزہ پابندیوں کی منظوری دے۔

قومی سلامتی کے امور کے لیے امریکی صدر کی مشیر سوزن رائس نے بھی کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ چین سخت پابندیوں کی حمایت کرے گا۔ کیلیفورنیا میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نہیں چاہے گا کہ شمالی کوریا کے حالیہ جارحانہ رویے کے بعد اسے شمالی کوریا کے محافظ کے طور پر دیکھا جائے۔ امریکی سینیٹ نے شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ راکٹ تجربے کے بعد متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کی منظوری دی ہے لیکن شمالی کوریا کا سب سے اہم تجارتی اتحادی چین اْس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نیرواں سال چھ جنوری کو اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا جس پر اسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہائیڈروجن بم کے اس تجربے کے بعد رواں ماہ اس نے طویل فاصلے تک سفر کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیا۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ تجربہ مصنوعی سیارہ مدار میں بھیجنے کے لیے کیالیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس کا مقصد بین الابراعظمی میزائل بنانا ہے۔ اس تجربے سے قبل جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو خبردار کیا تھا کہاگر وہ مصنوعی سیارہ بھیجنے کے منصوبے سے باز نہیں آیا تو اسے اس کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT