Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / شمسی طیارہ بحراوقیانوس عبور کرنے کی مہم پر روانہ

شمسی طیارہ بحراوقیانوس عبور کرنے کی مہم پر روانہ

نیویارک ۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) شمسی توانائی کی مدد سے اڑنے والا طیارہ سولر امپلس 2 بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کی مہم پر امریکی شہر نیویارک سے روانہ ہوگیا ہے۔ یہ دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کے دوران اس طیارے کا طویل ترین سفر ہوگا جو اندازاً 90 گھنٹے میں مکمل ہوگا۔ سولر امپلس ٹیم کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ طویل ترین فاصلہ ہوگا جو ہم اس سال طے کریں گے۔‘ طیارے کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ نیویارک سے اسپین کے شہر سیویل تک کے طویل سفر کے دوران طیارے میں بیٹھے بیٹھے ہی مختصر وقفوں کے لیے سو سکیں گے۔ پیکارڈ جو پیشے کے لحاظ سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں دنیا کے گرد 35 ہزار کلومیٹر کا سفر سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت آندرے بورشبرگ کے ہمراہ کر رہے ہیں۔ نیویارک سے سیویل کا سفر طیارے کے عالمی سفر کا 15واں مرحلہ ہے۔ گذشتہ مرحلے میں یہ طیارہ پینسلوینیا سے اڑ کر نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر پہنچا تھا جس کے ساتھ دنیا کا چکر لگانے کی مہم کا امریکی حصہ مکمل ہوگیا تھا۔جاریہ سال 11 جون کو جب یہ طیارہ نیویارک کی فضاؤں میں پہنچا تھا تو اسے مجسمہ آزادی کے قریب سے گزارا گیا تھا تاکہ اس کی تصاویر لی جا سکیں۔ سولر امپلس نے اپنا سفر گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی سے شروع کیا تھا۔ تاہم بیٹریوں میں خرابی کی وجہ سے اسے کافی مدت ورکشاپ میں گزارنا پڑی تھی۔اب تک کے سفر میں یہ ایشیا اور مشرقِ بعید سے ہوتا ہوا امریکہ پہنچا ہے۔

TOPPOPULARRECENT