Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / شمس آباد ایرپورٹ میں ٹرمینل بلڈنگ کی تعمیر کے مسئلہ پر عوام کی سماعت ناکام

شمس آباد ایرپورٹ میں ٹرمینل بلڈنگ کی تعمیر کے مسئلہ پر عوام کی سماعت ناکام

عوامی مسائل حل کریں ، جی او III کو منسوخ کرنے تک تعمیری اجازت نہ دینے قائدین کا مطالبہ
شمس آباد ۔ /28 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ رنگاریڈی ریجنل آفس کی جانب سے شمس آباد ایرپورٹ حج ٹرمینل میں ٹریمنل بلڈنگ کی تعمیری مسئلہ پر عوامی سماعت رکھی گئی جس کی ضلع کلکٹر رگھونندن راؤ نے صدارت کی ۔ عوام کی جانب سے کہا گیا کہ پہلے مرحلہ میں ایرپورٹ سے متاثرین کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور اب دوبارہ دوسرے مرحلہ میں بھی ناانصافی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ متاثرین کے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد دوسرے مرحلہ کے آغاز سے قبل رسمی سماعت رکھ کر صرف چنندہ افراد کو طلب کیا گیا ہے ۔ وینو گوڑ کانگریس منڈل صدر نے اپنی مخاطبت میں کہا کہ جی ایم راؤ صرف اپنے مفاد کیلئے پانچ ہزار ایکڑ اراضی حاصل کی تھی جس میں سے کئی ہزار ایکڑ اراضی خالی پڑی ہوئی ہے اور اب وہ دوسرے مرحلہ کیلئے مزید اراضی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اپنے مفاد کیلئے دوسروں کو نقصان پہنچانا غلط ہے ۔ مسائل کو حل کئے بغیر ہی تعمیری کام کاآغاز کیا گیا تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک ہم جانے کیلئے تیار ہیں ۔ شمس آباد سرپنچ راچاملا سدیشور نے کہا کہ شمس آباد ایرپورٹ کی تعمیر کیلئے اراضی حاصل کرنے کے بعد بلند عمارتیں تعمیر کی جاچکی ہے ۔ لیکن آج تک جی ایم آر گروپ کی جانب سے ایک مرتبہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ۔ پانچ ہزار ایکڑ اراضی حاصل کرنے کے بعد جی ایم راؤ اس اراضی کو اپنی ذاتی ملکیت اور سلطنت سمجھ کر ٹیکس ادا نہیں کررہے ہیں اور اب دوسرے مرحلہ میں ایک اور ٹریمنل کی تعمیر کیلئے عوامی سماعت رکھی گئی جو کہ ناکام ہے ۔ مقامی عوام کو طلب کرکے ان کی رائے حاصل کرنے کے بجائے جی ایم آر ورا لکشمی فاؤنڈیشن میں ٹریننگ حاصل کرنے والے اولیائے طلباء کو طلب کیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔ شمس آباد میں جی او III کی وجہ سے اگر عام آدمی مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اسے تعمیری اجازت نہیں دی جاتی جبکہ ایرپورٹ کیلئے ہزاروں ایکڑ اراضی پر تعمیری اجازت دی جارہی ہے ۔ یہ غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ پہلے جی او III کو منسوخ کریں اور عوامی مسائل کو حل کریں ۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے ضعیف حضرات و خواتین سے پوچھنے پر خواتین نے بتایا کہ ورالکشمی فاؤنڈیشن کی جانب سے چلائے جارہے آنگن واڑی اسکولس موبائیل ہاسپٹل اور انسٹی ٹیوٹ اور ٹریننگ سنٹر بھی ملازمت کرنے والے طلباء کے والدین کو ڈاکٹر سے تشخیص کرنے اور مفت دوا تقسیم کرنے کا اور اسکول میں مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کرکے انہیں اجلاس میں طلب کیا گیا ۔ کانگریس قائدین نے ضلع کلکٹر سے اپنے مطالبات رکھ کر اجلاس کابائیکاٹ کردیا ۔ صرف چند افراد کی موجودگی میں عوامی سماعت جاری رہی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT