Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / شنکر سنہہ واگھیلا گجرات میں نئے محاذ ’ جن وکلپ ‘ کی قیادت کرینگے

شنکر سنہہ واگھیلا گجرات میں نئے محاذ ’ جن وکلپ ‘ کی قیادت کرینگے

تمام 182 حلقوں سے مقابلہ کا منصوبہ ۔ عوام کی اکثریت مجھے چیف منسٹر دیکھنا چاہتی ہے ‘ سینئر لیڈر کا ادعا

احمد آباد 19 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات میں کانگریس کے سابق لیڈر شنکر سنہہ واگھیلا نے آج اعلان کیا کہ وہ ایک نئے سیاسی محاذ کی قیادت کرینگے جو ریاست کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں تمام نشستوں سے مقابلہ کرے گا ۔ واگھیلا نے کہا کہ اس فرنٹ کو ’ جن وکلپ ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسے شہر کے کچھ پیشہ ور ماہرین نے تشکیل دیا ہے ۔ ان ماہرین نے ان سے رابطہ کرتے ہوئے خواہش کی ہے کہ ریاست میں وہ برسر اقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کا کوئی متبادل فراہم کریں۔ ان ماہرین کا ادعا تھا کہ ریاست کے لوگوں کی ایک کثیر تعداد انہیں چیف منسٹر کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہے ۔ 77 سالہ سابق چیف منسٹر جو حال ہی میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں کیونکہ پارٹی انہیں چیف منسٹر امیدوار بنانے میں پس و پیش کا شکار تھی ۔ انہوں نے یہ اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا ۔ ان سے کسی سیاسی اعلان یا جماعت کے قائم کے اعلان کی کافی وقت سے امید کی جا رہی تھی ۔ واگھیلا نے ادعا کیا کہ جن وکلپ سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک سروے کیا اور انہیں پتہ چلا ہے کہ ریاست میں عوام کی بڑی تعداد انہیں آئندہ چیف منسٹر کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ گجرات کے عوام بی جے پی اور کانگریس دونوں سے بہت زیادہ غیر مطمئن ہیں۔ کثیر تعداد میں عوام کا کہنا تھا کہ انہیں آئندہ چیف منسٹر ہونا چاہئے ۔ واگھیلا نے کہا کہ جب ماہرین نے ان سے یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان ماہرین نے ان سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے ساتھ جڑ جاؤں اور اس محاذ کی قیادت کروں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی جماعت نہیں ہے بلکہ ایک محاذ ہے اور یہ ان افراد کی آواز بنے گا جو موجودہ نظام سے خوش نہیں ہیں۔ وہ جن وکلپ کو اپنی تائید کا اعلان کرتے ہیں ۔ یہ محاذ کسانوں ‘ خواتین ‘ تاجروں اور بیروزگار نوجوانوں کے مسائل اٹھائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے تمام 182 حلقوں سے اپنے امیدوار پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ وہ ریاست میں جاریہ سال کے اواخر میں ہونے والے انتخابات میں مقابلہ نہیں کرینگے ۔ تاہم جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر جن وکلپ کو اکثریت مل جائے تو کیا وہ چیف منسٹر بنیں گے انہوں نے اس امکان سے انکار نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اس مرتبہ انتخابات میں مقابلہ نہیں کرینگے ۔ یہ دیکھنا ہے کہ انتخابات کے بعد کیا ہوتا ہے ۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ میڈیا سے ہی مشورہ کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جن وکلپ میں کوئی ہائی کمان سسٹم نہیں ہوگا جو دوسری جماعتوں میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی ہائی کمان نہیں ہوگا ۔ ہمارے محاذ کے مقامی نمائندے امیدواروں کا انتخاب کرینگے ۔ ہم امریکہ کے پرائمری سسٹم کی طرح کام کرینگے ۔ جہاں پارٹی ورکرس امیدوار کے تعلق سے اپنے نظریات ہیں کرتے ہیں۔ صرف ایک لیڈر نہیں۔ جو امیدوار مقابلہ کرنا چاہتے ہیں وہ راست ہماری مقامی کمیٹیوں سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اروند کجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے وہ گجرات اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کریگی ۔ اب واگھیلا نے بھی اپنے فرنٹ کا اعلان کردیا ہے ۔ واگھیلا کشتریہ لیڈر ہیں اور دونوں کے میدان میں آنے سے ریاست میں انتخابی صورتحال پر اثر ضرور ہوسکتا ہے ۔ جب ان سے واضح کیا گیا کہ گجرات میں اکثر دو جماعتی سیاست چلتی ہے اور تیسرا محاذ کبھی کامیاب نہیں ہوا ہے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ انتخابات میں جن وکلپ کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک مفروضہ ہے کہ گجرات میں تیسرا محاذ اثر دار یا کار کرد ثابت نہیں ہوسکتا۔

TOPPOPULARRECENT