Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / شوٹنگ واقعہ کے بعد آسٹریلیا کی مسجد پر پولیس کا دھاوا

شوٹنگ واقعہ کے بعد آسٹریلیا کی مسجد پر پولیس کا دھاوا

پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک 15سالہ لڑکے کی بہن لاپتہ ‘ عراق کو روانگی کا شبہ
سڈنی۔4اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کی پولیس نے آج کہاکہ سڈنی کی ایک مقامی مسجد پر دھاوا کیا گیا جہاں باور کیا جاتا ہے کہ ایک 15سالہ لڑکا دہشت گردی کے ایک واقعہ میں ایک ملازم پولیس کو گولی مارنے سے قبل اس مسجد میں داخل ہوا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد نوجوانوں میں انتہا پسندوی سے نمٹنے کیلئے حکام اپنی کوششوں میں شدت پیدا کرچکے ہیں ۔ نیو ساؤتھ ویلز اسٹیٹ پولیس نے کہا کہ مغربی سڈنی کی پرامٹا مسجد میں جہاں گذشتہ نماز جمعہ کے موقع پر دوہری شوٹنگ کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ مذہبیقائدین کی اجازت سے آج دھاوا کیا گیا ۔

پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے پرامٹا مسجد پر دھاوا کیلئے گذشتہ روز وارنٹ جاری کیا تھا ‘‘ ۔ ذرائع نے کہا کہ مسجد انتظامیہ کی اجازت سے دھاوا کیا گیا اور مسجد انتظامیہ نے مکمل تعاون کیا ۔ آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ( اے بی سی ) کے مطابق 15 سالہ بندوق بردار نے ایک فینانس ورکر کورٹیس چنگ کو گولی مار کر ہلاک کرنے سے قبل اس مسجد کو گیا تھا ‘ بعد ازاں حملہ آور نے اس لڑکے کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ وزیراعظم مالکم ٹرن بُل نے کہا کہ ’’ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا‘‘ پولیس نے مسجد پر کئے گئے دھاوے کی تفصیلات بیان نہیں کئے ہیں لیکن معتبر ذرائع نے اے بی سی سے کہا کہ 15سالہ لڑکے کی نوعمر بہن جمعرات سے لاپتہ ہے جو استنبول جانے والے سنگاپور ایر لائنس کے ایک طیارہ میں سوار ہوئیتھی ۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ لڑکی عراق یا شام روانہ ہوئی ہوگی ۔ وزیر خارجہ جولی بشپ نے اس لڑکی کے سفر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا کہ آسٹریلیائی وفاق اور ریاستی حکومتوں نے مسلم برادریوں  کے ذمہ داروں سے بات چیت کا آغاز کردیا ‘ جب یہ پتہ چلا کہ 15سالہ لڑکا عراقی کرد پس منظر کا حامل ہے اور ایران میں پیدا ہوا تھا ۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر اینڈریو اسکائپیون نے 15سالہ لڑکے کی شوٹنگ میںہلاک چنگ کو ہر اعتبار سے ایک انتہائی شریف النفس شخص قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت ادا کیا اور کہا کہ وہ گدشتہ 17سال سے پولیس فورس میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔پولیس نے کہا ہے کہ 15سالہ لڑکے کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور پولیس ان تحقیقات میں مصروف ہے کہ آیا اُس نے 58سالہ چنگ کو آخر کس لئے اپنا نشانہ بنایا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT