Sunday , May 28 2017
Home / شہر کی خبریں / شوہر اور بیوی کے درمیان تنازعات کی شرعی حدود میں یکسوئی کی کوشش

شوہر اور بیوی کے درمیان تنازعات کی شرعی حدود میں یکسوئی کی کوشش

وقف بورڈ کے عائلی تنازعات کی یکسوئی ، سنٹر میں مفتیان کرام کی خدمات فراہمی کا فیصلہ ، الحاج محمد سلیم
حیدرآباد ۔ 10۔ مئی (سیاست نیوز) وقف بورڈ کے ذریعہ عائلی تنازعات کی یکسوئی کیلئے قائم کردہ سنٹر میں مفتیان کرام کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شوہر اور بیوی کے درمیان تنازعات کی شرعی حدود میں یکسوئی کی جاسکے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج وقف بورڈ کے تحت کام کرنے والے کونسلنگ سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں تنازعات کی یکسوئی کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کی ۔ ریٹائرڈ جج ای اسماعیل کی نگرانی میں یہ کونسلنگ سنٹر کام کر رہا ہے ۔ صدرنشین کو بتایا گیا کہ اس سنٹر کے ذریعہ ابھی تک 40 جوڑوں کو ملانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ 110 دیگر تنازعات ابھی زیر التواء ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بسا اوقات فریقین میں سے کوئی ایک غیر حاضر ہوجاتا ہے ۔ وقف بورڈ کو انہیں طلب کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور صرف مشاورت کے ذریعہ ہی انہیں تنازعات کی یکسوئی کیلئے تیار کیا جاسکتا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پولیس کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ فریقین کو سماعت کے موقع پر حاضر رہنے پابند کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مزید دو مفتیان کرام کی خدمات حاصل کرتے ہوئے خاندانی تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ معمولی باتوں پر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات طلاق کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کونسلنگ سنٹر کی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور ازدواجی رشتوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے واقف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کے ذریعہ بیواؤں کو بھی ماہانہ وظائف دینے کی تجویز ہے۔ بہت جلد رقم کا تعین کرلیا جائے گا ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی کے ہمراہ اچانک شعبہ قضاۃ کا دورہ کرتے ہوئے کارکردگی کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے سرٹیفکٹ کی اجرائی میں تاخیر پر ناراضگی جتائی اور ان کی ہدایت کے باوجود دو زائد کمپیوٹرس کی تنصیب میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اضلاع سے آنے والے درخواست گزاروں کو ایک ہی دن میں سرٹیفکٹ جاری کردیئے جائیں ۔ عام زمرہ کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کم سے کم تین دن میں کی جانی چاہئے ۔ اسٹاف کی کمی کی شکایت پر صدرنشین وقف بورڈ نے مزید 10 رکنی عملہ شعبہ قضاۃ کو الاٹ کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر متعلق افراد اور بروکرس کی سرگرمیوں کی صورت میں انچارج عہدیدار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے شعبہ کے عہدیداروں اور ملازمین کو وارننگ دی کہ وہ کسی بھی طرح کی بے قاعدگی سے دور رہیں ورنہ انہیں معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے ملازمین کے تعاون سے جاری بعض سرگرمیوں پر ناراضگی ظاہر کی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر افراد کے ذریعہ اس شعبہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے تمام شعبہ جات کے انچارجس کو ملازمین کی تعلیمی قابلیت ، تنخواہ اور تقرر کی تفصیلات منگل تک داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان تفصیلات کی بنیاد پر ملازمین اور عہدیداروں کا موزوں شعبہ جات میں تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں تقررات اور تنخواہوں کے تعین کے سلسلہ میں قواعد کی خلاف ورزیوں کے باعث بھاری نقصان ہورہا ہے ۔ کم اہلیت رکھنے والے افراد اہم عہدوں پر فائز کردیئے گئے اور انہیں بھاری تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔ صدرنشین نے کہا کہ بورڈ کی آمدنی سے زیادہ اس کا خرچ ہے۔ وہ اصلاحات پر عمل کرتے ہوئے تمام معاملات کو درست کریں گے اور قابل افراد کا تقرر کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT