Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / شوہر سے دریافت کئے بغیر محض عورت کے بیان پر بغیر شہادتِ شرعی طلاق کا حکم نہ لگایا جائے

شوہر سے دریافت کئے بغیر محض عورت کے بیان پر بغیر شہادتِ شرعی طلاق کا حکم نہ لگایا جائے

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شوہر علی نے اپنی زوجہ (کلیمہ) کو ایک طلاق دی۔ اور اندرونِ عدت علی نے کلیمہ کو گواہوں کے روبرو دوسری مرتبہ طلاق دی، پھر اندرونِ عدت بیوی واپس آئی۔ اور شوہر نے رجوع کرلیا۔ اس کے تین دن بعد شوہر ملازمت کی تلاش میں دبئی گیا ہوا تھا، پھر تین ہفتہ بعد بیوی نے دعوی کیا کہ جب ہم گھر میں تھے تو شوہر نے مزید دوطلاقیں دیں، اُسوقت کوئی بھی گواہ موجود نہ تھا، تب سے بیوی زندگی گذارنے سے ڈر رہی ہے کہ وہ گناہ ہے۔ اپنا شک دور کرنے کیلئے وہ کسی شرعیہ بورڈ سے رجوع ہوئی، تو انہوں نے فتوی دیا کہ طلاق مغلظہ ہوگئی۔ جبکہ شوہر علی کو صرف دوہی طلاق کا اقرار ہے، وہ مزیدطلاق کا انکار کررہا ہے۔
ایسی صورت میں جبکہ زوجہ کلیمہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے اور وہ جھوٹ کہہ کر فتوی لی ہے تو شرعًا اسکے متعلق کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: صورتِ مسئول عنہا میں علی کی بیوی، دورجعی طلاقوں سے رجوع کے بعد مزید دوطلاق کا دعوی کررہی ہے اور شوہر(علی) کو اس سے انکار ہے، تو شرعًا بیوی پر اپنے دعوی کے ثبوت کیلئے دومرد یا ایک مرد دوعورتیں بطور گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ یہ گواہ ’’اشھدباﷲ‘‘ کہہ کر گواہی دیں، تو اس کا دعوی ثابت ہوکر طلاق مغلظہ واقع ہوجائیگی اوردونوں بغیرحلالہ آپس میں دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے۔
اگر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں تو شوہر(علی) کو اس کے انکارپر حلف دلائی جائے گی۔ وہ حلف سے انکار کردے تو بیوی کا دعوی ثابت رہے گا۔ اور اگر شوہر(علی) حلف لے کہ ’’بیوی کادعوی جھوٹا ہے‘‘ تو دونوں میں تعلقِ زوجیت برقرار رہے گا۔ درمختار کتاب الشھادۃ جلد۴ ص۴۱۳ میں ہے: (و) نصابھا (لغیرھا من الحقوق سواء کان) الحق (مالا أو غیرہ کنکاح وطلاق و وکالۃ و وصیۃ واستھلال صبی) ولو (للارث رجلان أو رجل و امرأتان)۔ ہدایہ کتاب الدعوی باب الیمین میں ہے: واذا ادعت المرأۃ طلاقا قبل الدخول۔ بین السطور لکھا ہے(أو بعدالدخول کذا فی نتائج الافکار)۔ استحلف الزوج فان نکل ضمن نصف المہر فی قولھم جمیعا۔ اسی باب میں ہے: واذا نکل المدعی علیہ عن الیمین قضی علیہ النکول والزمہ ما ادعی علیہ۔ اور فتاوی مہدیہ جلد اول ص ۱۷۴ میںہے: سئل فی رجل حصل بینہ و بین صھرہ مشاجرۃ ومنافسۃ فادعت زوجتہ بأنہ طلقھا عنادا مع زوجھا فأنکر دعواھا فھل اذا لم تقم علیہ بینۃ بالطلاق یکون القول قولہ بیمینہ فی عدم الطلاق المدعی بہ وعلیھا اطاعتہ ؟ اجاب: القول للزوج بیمینہ حیث لا بینۃ للزوجۃ علی دعوھا الطلاق ۔
پس بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں شرعیہ بورڈ نے علی سے دریافت کیئے بغیر، محض عورت کے بیان پر بغیر شہادتِ شرعی جو طلاق کا حکم لگایا، وہ غیردرست ہے، حسبِ احکامِ شرعی عمل ہو۔
شریعت میں غیر محرم سے پردہ شرعاً لازم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید یہ چاہتا ہے کہ ان کی بیوی کو اس کے بہنوئی سے اس کے بعض ناروا اخلاق و عادات کی بناء پردہ کروانا چاہتا ہے اور ان کے گھر بھی لے جانا نہیں چاہتا۔ خاندان والے والد ، والدہ وُ دیگر افراد دباؤ ڈال رہے ہیں کہ بہن کے گھر اس کو روانہ کرتے رہیں۔ ان حالات میں ان کو ان کی بہن کے گھر نہ جانے دیں تو کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟
جواب :بہنوائی شریعت میں غیر محرم ہے اس سے پردہ شرعاً لازم ہے ۔ بہن کے گھر سال میں ایک مرتبہ جانے کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ وہاں اس کے بہنوئی کی وجہ کوئی خطرہ نہ ہو ۔ بہن اگر اپنی بہن کے گھر میں آکر ملاقات کرے تو اس کی شرعاً اجازت ہے۔ فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT