Friday , April 28 2017
Home / مضامین / شکوہ

شکوہ

کے این واصف

خلیجی ممالک میں بسے غیر ملکی عموماً اور سعودی عرب میں بسے تارکین وطن خصوصاً کے مسائل، ان کے دکھ درد، ان پر آئی آفت و پریشانیوں کے بارے میں لکھنے ، انہیں ارباب مجاز تک پہنچانے کی مقدور بھرکوشش ہم پچھلی دوہائیوں سے زائد عرصہ سے کر رہے ہیں لیکن ان برسوں میں ہم جن کی وکالت کرتے رہے ہمیں آج انہی غیر ملکیوں سے شدید شکایت ہے ۔ جی ہاں جو غیر ملکی حرمین شریفین میں بڑی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں اوران مقدس مقامات کی حاضری کے آداب سے وقفیت حاصل کئے بغیر یہاں آتے ہیںاپنی نادانیوں اور لاپرواہیوں سے خود گنہگار ہوتے ہیںاور آگہی رکھنے والے با ادب زائرین کو حیرانی اور تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں وہ بھی شامل ہیں جو صرف عمرہ و زیارت کی خاطر اپنے اپنے ملکوں سے ان مقامات مقدسہ کو آتے ہیں اور یہاں ان کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جو مملکت سعودی عرب میں برسرکار ہیں اور بار بار عمرہ و زیارت کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین آتے ہیں۔

بفضل تعالیٰ ہم نے پچھلا ایک ہفتہ حرمین شریفین میں گزارا۔ حرم مکی میں کچھ دیگر باتوں کے علاوہ جو بات ہمیں سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے وہ زائرین کا حجر اسود کا بوسہ لینے کیلئے دھکم پیل کرنا ہے ۔ ہمیں یہ بات سوچ کر ہی اپنے آپ میں شرم سی محسوس ہوتی ہے کہ کیا خانہ کعبہ میں طواف بیت اللہ کرنے اورحجر اسود کو بوسہ دینے والوں کو منظم یا کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اہلکار کو متعین کیا جانا چاہئے ؟ ہم مکہ مکرمہ میں ضیوف الرحمن کی حیثیت میں ہیں اور کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اورحجر اسود کو بوسہ دینے کے مقدس عمل کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس مقام پر پہنچ کر اہل ایمان خوف خدا وندی سے لرزہ براندام ہوجاتے ہیں کیونکہ اول تو یہ بیت اللہ ہے، دوسرے یہ کہ حجر اسود جسے آقائے دوجہاں نبی اکرم محمد مصطفیؐ نے بوسہ دیا تھا اور ہم اس حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا اس عمل کے پورا کرنے کیلئے پولیس اہلکار ہمیں کنٹرول کریں۔ ان اعمال کی انجام دہی کے وقت اگر ہمارے اندر خوف خدا نہیں، احترام خانہ کعبہ نہیں اور حجر اسود کو بوسہ دینے کا سلیقہ اور اس کے تقدس کا خیال نہیں کیا ہمیں ہماری اس بنیادی اخلاقی ذمہ داری یاد دلانے اور خانہ کعبہ میں ہمارے رویہ اور مناسک کی ادائیگی کا سلیقہ سکھانے ہمیں پولیس اہلکار چاہئے ۔ کیا کبھی ہمارے ذہن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ خانہ کعبہ میں مناسک کی ادائیگی میں کس قدر نازیبا اور گستاخانہ عمل اور رویہ سے گزرے ہیں۔ اپنا طواف جلد از جلد مکمل کرنے اور حجر اسود کا بوسہ لینے میں ہم کس قدر خود غرض ہوجاتے ہیں کہ ہم وہاں موجود عورتوں ، ضعیفوں اور اپنے کمزور ہم نفسوں کا خیال کئے بغیر صرف اپنا طواف اور حجر اسود کے بوسہ کیلئے اسلامی اقدار اور اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ کیا ہم احترام کے اس مقام پر اس طرح پیش آکر گستاخی نہیں کر رہے ہیں ؟ آج کل یہ بڑا عام ہے کہ لوگ جہاں کہیں کوئی غلطی ، کوتاہی ، برائی یا نازیبا حرکت دیکھتے ہیں تو فوری اپنے موبائیل پر تصویر بناکر سوشیل میڈیا پر جاری کردیتے ہیں ۔ کیوں وہ لوگ جن کی نظریں سماجی اور اخلاقی برائیوں پررہتی ہیں، ان افراد کی نگاہیں ان لوگوں پر جو حرمین شریفین میں گستاخی، بداخلاقی اور نازیبا حرکات کے مرتکب ہوتے ان پر نہیں پڑتی؟ تاکہ انہیں حرمین شریفین کی حا ضری کے آداب کا پتہ چلے، ہمیں معلوم ہو کہ یہاں کس قدر عجز و انکسار کا نمونہ بنے رہنا چاہئے ۔
دوسری طرف سعادت زیارت مسجد نبویؐ حاصل کرنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ لوگ مسجد میں بیٹھے مسلسل اپنے مو بائیل کیمرے پر ویڈیو اور فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کی توجہ کچھ عرصہ قبل شائع ایک مختصر خبر کی طرف مبذول کرائیں گے ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ مسجد نبوی شریف کے امام شیخ علی الخدیفی نے جمعہ کا خطبہ روک کر فوٹو بنانے والوں کو تصویر کشی سے منع کیا تھا ۔ انہوں نے موبائیل فون کے ذریعہ جمعہ کے خطبہ کی تصویر کشی کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جمعہ کے خطبہ کا احترام کریں اور یاد  رکھیں کہ جو لوگ اس قسم کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں ، ان کی نماز غیرمقبول ہوسکتی ہے ۔ اس قسم کے کام ایسے لوگ ہی کرسکتے ہیں جن کے پاس مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کا کوئی خیال نہ ہو ۔ حضرات یہ سچ ہے کہ ہر شخص کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین میں اپنی حاضری کی یادگار کے طور پر اپنے کیمرے میں قید کرے ۔ یہ کام وہ لوگ ادائیگی مناسک اور عبادتوں سے فارغ ہوکر حرمین کے باہر جاکر بطور یادگار حرمین کو Back Ground میں رکھ کر دو ایک تصویریں بنائیں نہ کہ خانہ کعبہ کے طواف کے دوران، روضۂ اقدس پر سلام عرض کرنے کے موقع پر مسلسل ویڈیو یا فوٹو گرافی کرتے رہیں۔ ہم دنیا میں بہت سے مقامات پر لائن قائم کرلیتے ہیں اور بڑے سلیقہ سے قطار میں لگ جاتے ہیں مگر یہی لوگ حجر اسود کا بوسہ لینے یا روضہ مبارکہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں تو نہ لائن کا خیال ، نہ ڈسپلن کی پرواہ ، نہ ان مقامات کے تصدق احترام۔ دھکم پیل کرتے ہیں، ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ اونچی آواز میں بحث و تکرار کرنے لگتے ہیں ، وہ بھی عین روضہ مبارکہ کے سامنے جبکہ یہ وہ مقام ہے جہاں آواز کا اونچا کرنا توکجا نظریں تک نیچی رکھنی چاہئے ۔

پچھلی مرتبہ ہم نے عید الفطر کی نماز مسجد نبوی شریف میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی تھی ۔ عید کی نماز کے فوری بعد سیکوریٹی فورس کے اہلکاروں نے باب جلال اور باب بقیع کے سامنے کے کھلے حصہ سے زائرین کو فوری چلے جانے کی ہدایت کی جو روضہ مبارک کی طرف رُخ کر کے سلام پڑھنا چاہتے تھے ۔ دوسری طرف باب سلام جہاں سے زائرین کو عام دنوں میں روضہ مبارک پر حاضری کیلئے اندر داخل ہونے دیا جاتا ہے کہ اطراف حرم مدینہ کے انتظامیہ نے ایک مضبوط حصار بندی کردی تھی ۔ اس حصار میں دو داخلے بنائے گئے تھے جہاں سے زائرین کو آہستگی سے  گروپس کی شکل میں اندر جانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ اس مقام سے انتظامیہ عربی ، اردو ، انگریزی اور ترکی زبان میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ زائرین کی سہولت اور بہتر انتظام کی خاطر انتظامیہ نے یہ حصار بندی کی ہے۔ زیارت کا موقع 24 گھنٹے کیلئے کھلا ہے ۔ زائرین کو جب گروپ کی شکل میں روضۂ مبارکہ کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی ، وہ اطمینان اور مقام مقدسہ کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ باب سلام کی طرف جائیں۔ تیز چلنے یا دوڑنے کوشش نہ کریں۔ اس سے گر پڑنے اور چوٹ لگنے کا احتمال اور دیگر زائرین کیلئے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں لیکن ہم نے دیکھا کہ جب جب ایک بڑے گروپ کو باب سلام کی طرف جانے کی اجازت دی جارہی تھی لوگ نہ صرف دوڑتے ہوئے بلکہ شور و غل مچاتے ہوئے روضہ مبارک کی طرف دوڑے جاتے تھے ۔

آج کل لوگ ہر ملک سے بڑی تعداد میں عمرہ ، حج و زیارت کیلئے یہاں آتے ہیں ۔ ہمارے ائمہ کو چاہئے کہ ہر ملک میں وہ اپنے خطبات و بیانات میں ان مقامات مقدسہ کی حاضری کے آداب سے لوگوں کو واقف کراتے رہیں۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسلامی تعلیمات ، اخلاقی قدروں، احکامات قرآن و سنت پر زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں۔
پچھلے جمعہ کی خاص بات یہ رہی کہ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ حرم مکی کے ا مام و خطیب شیخ عبدالرحمن السدیس نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ مسجد نبوی شریف میں جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت بھی کی ۔ شیخ السدیس نے اپنے خطبہ میں واضح کیا کہ بنی نوع انسان کیلئے امن و آشتی ، تہذیب و تمدن اور رواداری کا اسلامی پیغام پہلی بار مدینہ منورہ سے دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا شہر مدینہ اسلام کا مینارہ ، ایمان کا مرکز ، عقائد کا سرچشمہ ، تہذیب و تمدن کا دارالحکومت ، اسلامی دنیا کی قیادت و سیادت کاامین ہے ۔ یہ میانہ روی اور اعتدال پسندی کا علمبردار شہر ہے ۔ یہ انتہا پسندی شدت پسندی ، دہشت گردی ، فرقہ واریت کا مخالف شہر ہے ۔ یہیں سے اسلامی تمدن کا سورج طلوع ہوا تھا جس نے پوری دنیا میں صلاح و فلاح ، امن و سلامتی ، رحم دلی ، عدل پروری اور رواداری کے اقدار رائج کئے ۔
امام کعبہ ڈاکٹر السدیس نے اپنے خطبہ میں مسلمانان عالم سے امن و آشتی اسلامی تہذیب و تمدن ، رواداری ، عدل و انصاف ، رحم دلی ، میانہ روی کو اپنے معاشرے میں قائم کرنے کی تلقین کی ۔ اس پر ہر مسلمان کو توجہ کرنی چاہئے ۔ اللہ ہمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھنے ، سمجھنے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اگر کچھ علم ہے تو بس یہی ہے
محمدؐ کو سمجھنا آگہی ہے
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT