Saturday , October 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / شہادت کبریٰ کا مقام ومرتبہ

شہادت کبریٰ کا مقام ومرتبہ

ڈاکٹر محمد صبغۃ اللہ شریف

شہادت کے معنی گواہی دینا ، حاضر ہونا، اسی سے شہید ہے ، شہید کو شہید اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے لئے جنت کی گواہی دی ہے یا رحمت کے فرشتے اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں یا یہ خود معرکۂ کار زار میں حاضر ہوکر اپنی جان کا نذرانہ بارگاہ الٰہی میں پیش کرتا ہے۔
شہادت کی دو قسمیں ہیں: (۱) شہادت صغریٰ (۲) شہادت کبریٰ ۔ احادیث کی روشنی میں طاعون ، ہیضہ، یا پیٹ کی بیماری سے وفات پانے والا ، چٹان یا عمارت کے گرنے یا ناگہانی حادثہ میں ہلاک ہونے والا اتفاقی طور پر پانی میں ڈوب کر مرنے والا، یا اپنی یا اپنے متعلقین کی جان ومال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونے والا ان سب کا شمار شہادت صغریٰ میں ہوتا ہے۔اسلام کی حفاظت اوراس کی سر بلندی میں مارا جانا شہادت کبریٰ کہلاتا ہے، شہادت کبریٰ کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے ایسے شہید کو شہید فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن اس کی موت کو حیاتِ جاوید کی سند دیتا ہے: ’’وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَائٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ‘‘ (البقرۃ: ۱۵۴)
( جولوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جائیںگے اُن کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ؛لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں) ۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتًا
بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْن (آل عمران: ۱۶۹)
(جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیں اُن کو ہرگز مردہ نہ سمجھو ؛ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دئیے جارہے ہیں)۔
یہ زندگی حقیقی ہے یا مجازی اس سلسلے میں بعض کہتے ہیں کہ قبروں میں شہداء کی ارواح لوٹادی جاتی ہے اور وہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبو انہیں آتی رہتی ہے اور اس سے مشام جاں معطر ہوتی رہتی ہے ۔ حدیث کی روشنی میں ان کی روحیں سبز پرندوں کے سینوں میں داخل کردی جاتی ہے اور وہ جنت میں کھاتی پیتی اور اس کی نعمتوں سے متمتع ہوتی رہتی ہیں۔(مسلم، کتاب الامارۃ) کوئی مرنے والا جس کو اللہ کے ہاں اچھا مقام حاصل ہے دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرتا البتہ شہید دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرتا ہے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے ۔ یہ آرزو اس لئے کرتا ہے کہ شہادت کی فضیلت کا وہ مشاہدہ کرلیتا ہے ۔ (صحیح البخاری)، نیز حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شہید کے لئے اللہ کے پاس سات خصوصیات ہیں: (۱) خون کا قطرہ گرتے ہی اُسے بخش دیا جاتا ہے (۲) روح نکلتے ہی اُسے جنت کا ٹھکانہ دیکھا دیا جاتا ہے (۳) شہید عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے (۴)شہید کو جہنم کے عذاب کا خطرہ نہیں رہتا (۵)اُس کے سرپر عزت کا تاج رکھا جائے گا جو دنیاوی یاقوت ودیگر تمام جواہرات سے بہتر ہوگا (۶)اس کے نکاح میں بڑی بڑی آنکھوں والی ۷۲ حوریں دی جائیںگی (۷) شہید کی سفارش ۷۰ عزیز واقارب کے لئے قبول کی جائے گی ۔فرمایا نبی کریم ﷺ نے شہید جنت کے (آٹھوں دروازوں میں سے) جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوگا۔ (مشکوۃ) شہید کو شہادت کے وقت اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی جتنی چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے؛ اس لئے کہ دیدار الٰہی کا شوق اور جنت پانے کی لذت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ جس سے شہادت کی تکلیف کا احساس ختم ہوجاتا ہے ۔یہ اتنی عظیم سعادت ہے کہ اس کے لئے حضرت عمر فاروق ؓدعا مانگا کرتے تھے۔ شہید خون میں نہا کر اس قدر پاک ہوجاتا ہے کہ اسے غسل وکفن کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ ہاںالبتہ اُس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ یوں تو امت میں شہداء بہت ہیں، مگر اُن میں حضرت حسین ؓکی شہادت کئی حیثیتوں سے اُونچا مقام رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں شہید اعظم کہا جاتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اپنے پسندیدہ راہ کی موت نصیب فرمائے ۔ آمین

 

TOPPOPULARRECENT