Tuesday , October 24 2017
Home / پاکستان / شہباز تاثیر کی رہائی کے بارے میں متضاد دعوے

شہباز تاثیر کی رہائی کے بارے میں متضاد دعوے

فوج کی کارروائی میں رہائی کی تردید ‘ حکومت بلوچستان اپنے بیان پر اٹل
اسلام آباد۔13مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے فرزند جو سمجھا جاتا ہے کہ 2011ء میںعسکریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کرلئے گئے تھے ‘ پاکستانی فوج نے انہیں رہا نہیں کروایا ۔ وزارت داخلہ کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کارنامہ پاکستانی فوج کا نہیں تھا اس انکشاف پر عہدیدار شرمندہ ہوگئے ہیں ۔ شہباز تاثیرنے کہا کہ 26 اگست 2011ء کو لاہور کے علاقہ گلبرگ سے انہیں اغوا کیا گیا تھا اور اُسی وقت سے عسکریت پسند گروپس نے انہیں یرغمال بناکر رکھا تھا ۔ ان کے فراخدل والد کو ان کے بنیاد پرست باڈی گارڈ ممتاز قادری نے جنوری 2011ء میں متنازعہ اہانت مذہب قانون کے بارے میں اُن کے موقف کی بناء پر ہلاک کردیا تھا ۔ ممتاز قادری کو جاریہ ماہ کے اوائل میں روالپنڈی میں سزائے موت دے دی گئی ۔ شہباز کو 8مارچ کو رہا کیا گیا ‘ انہیں تقریباً پانچ سال تک یرغمال بناکر رکھا گیا تھا ۔

ان کی دستیابی کے بعد بلوچستان کی حکومت کے ترجمان انوارالق ککر نے دعویٰ کیا کہ شہباز کو فوج نے اپنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران طالبان اکثریت والے قصبہ کچلاک کے ایک ہوٹل سے رہا کروایاتھا لیکن وزیر داخلہ نصار الایقان نے ان حالات کی تحقیقات کیلئے قائم کیا تھا جن کے نتیجہ میں شہباز کو بلوچستان کی حکومت کے دعویٰ کی تحقیقات کرے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں تھا کہ اغوا کرنے والوں نے انہیں آزاد کیوں کیا ۔ یا انہیں زرتاوان ادا کیا گیاتھا ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کسی بھی شخص کو یہ مسئلہ اپنیکارکردگی کا نتیجہ ہونے کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہے ۔ بیان می ںجو کل جاری کیا گیا کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس واردات میں ملوث تھے ان کی شخصی کارکردگی اور سخت انتباہ کے نتیجہ میں یہ رہائی عمل میں آئی ہے ۔ وزارت داخلہ کے اس واقعہ کے سلسلہ میں ردعمل کے بعد ککر نے کہا کہ حکومت بلوچستان اپنے سرکاری بیان پر قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نہیںجانتے کہ وزارت داخلہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے کہ اغوا کنندوں سے اس نے رہائی دلائی تھی ‘ وہ سرکاری بیان پر قائم ہیں ۔ جو فوج کی کارروائی کے بارے میں ہے ۔فوج نے کچلاک کے مکان پر دھاوا کیا تھا اور شہباز تاثیر کی خود نے شناخت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک کامیاب کارروائی تھی کیونکہ کچلاک طالبان کی غالب آبادی کاقصبہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کی تحقیقات کا چودھری نصار نے حکم دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT