Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شہریان حیدرآباد موسم باراں کے منتظر، برقی گل ہونے پر فکر لاحق

شہریان حیدرآباد موسم باراں کے منتظر، برقی گل ہونے پر فکر لاحق

گزشتہ کی بارش اور ہواؤں سے شہر تاریکی میں غرق، برقی حکام کے فونس بند ہونے سے تکالیف
حیدرآباد 15 مئی (سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد جہاں موسم باراں کے آغاز کے لئے بے چین ہیں وہیں اُنھیں یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ کہیں بارش کے موسم میں اُنھیں مسلسل تاریکی میں رہنا نہ پڑے۔ ہفتہ کی رات اچانک تیز ہواؤں کے ساتھ صرف نصف گھنٹے کیلئے ہوئی بارش کے بعد عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوگیا کیوں کہ نصف گھنٹہ کی تیز ہواؤں اور بارش کی وجہ سے شہر کا 70 فیصد حصہ 12 گھنٹوں کے لئے تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور محکمہ برقی کے عہدیدار سربراہی بحال کرنے کے موقف میں نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ برقی کٹوتی کی اطلاع دینے اور بحالی سے متعلق استفسار کے لئے مختص تقریباً تمام ٹیلیفون نمبرات بند کردیئے گئے تھے۔ متعلقہ اعلیٰ عہدیدار بھی عوام اور صحافیوں کے فون کالس کو مسلسل نظرانداز کررہے تھے۔ خود اعلیٰ عہدیداروں میں بھی ایک دوسرے سے بہتر تال میل اور اشتراک کا فقدان دیکھا گیا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقے نصف گھنٹے کی بارش کے بعد رات بھر کے لئے تاریکی میں ڈوبے رہے لیکن کئی علاقوں میں برقی عہدیدار عوامی شکایات کا جواب دینے یا مسئلہ کی یکسوئی کے لئے دستیاب نہیں تھے۔ گزشتہ شب ہوئی کچھ دیر کی بارش اور تیز ہواؤں کے سبب برقی کھمبوں و تاروں کوہوئے نقصانات کی وجہ سے برقی سربراہی منقطع ہوئی لیکن برقی سربراہی کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز رات دیر گئے شروع کیا گیا۔ پرانے شہر کے کئی علاقے برقی مسدودی کے سبب رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے جس کی وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دو یوم قبل بھی رات بھر برقی سربراہی نہ ہونے کے سبب نور خاں بازار، دبیرپورہ، عثمان پورہ، اعظم پورہ کے کئی علاقوں میں برقی سربراہی نہ ہونے کے سبب احتجاج کیا گیا تھا اور عوام کی شدید برہمی پر منتخبہ نمائندوں نے احتجاج کے بجائے نمائندگی پر اکتفا کرتے ہوئے اِس بات کا تیقن دیا تھا کہ برقی سربراہی میں پیدا ہورہے خلل کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور مرمت کے بعد برقی منقطع نہیں ہوگی۔ تیز ہواؤں اور بارش کے سبب پیدا ہورہی اِس صورتحال سے نمٹنے کے متعلق کئے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ تیز ہواؤں اور بارش کے باعث برقی سربراہی میں خلل کی فوری مرمت ممکن نہیں ہوتی لیکن برقی تاروں کے ٹوٹ کر گرنے کے واقعات سے نجات کے لئے اقدامات یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں کو شیورام پلی فیڈر سے سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے اِس کے علاوہ علی آباد، خلوت، کومٹ واڑی و دیگر سب اسٹیشنس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اِن اقدامات کے باوجود آرہی تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ بعض عہدیدار پرانے شہر کا تقابل دیگر علاقوں بالخصوص بنجارہ ہلز و جوبلی ہلز میں زیادہ برقی خلل کا حوالہ دے رہے ہیں۔ لیکن اُنھیں اِس بات کا شاید احساس نہیں ہے کہ اُن علاقوں میں عوام جنریٹر یا انورٹر کا استعمال کرتے ہیں جبکہ پرانے شہر کے علاقوں میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

TOPPOPULARRECENT