Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / شہری حدود میں نئے پارکس کا قیام عمل میں لایا جائے

شہری حدود میں نئے پارکس کا قیام عمل میں لایا جائے

ساوتھ زون علاقہ میں پارکس کی قلت ، عوام کو چہل قدمی کے لیے مشکلات
حیدرآباد۔22مارچ (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سب سے کم عوامی پارک ساؤتھ زون میں ہیں اور جی ایچ ایم سی کے جملہ حدود میں 1فیصد سے بھی کم حصہ پر پارک بنائے گئے ہیںجبکہ پارک اور درخت انسانی زندگی میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔جامعہ عثمانیہ کے شعبہ جغرافیہ کی جانب سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ شہر حیدرآباد (جی ایچ ایم سی) حدود کے جملہ رقبہ 2لاکھ 22ہزار ایکڑ میں صرف 0.002فیصد جگہ ہی پارک کیلئے مختص ہے جو جملہ478ایکڑ پر محیط ہے۔جامعہ عثمانیہ کے شعبہ جغرافیہ کی جانب سے کئے گئے اس سروے میں ہوئے اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں موجود 49بڑے پارکس کو لوگ 5کیلو میٹر سے زیادہ کی مسافت طئے کرکے پہنچتے ہیں اور اگر انہیں بہترین پارک اندرون ایک یا دو کیلو میٹر مل جائیں تو وہ اور زیادہ صحت مند ہو سکتے ہیں کیونکہ آمد ورفت کا وقت وہ ورزش میں لگائیں گے اسی طرح جو لوگ پارک دور ہونے کے سبب ورزش یا چہل قدمی کیلئے نہیں نکلتے انہیں بھی اگر اندرون ایک یا دو کیلو میٹر کے حدود میں پارک ملنے لگ جائیں تو وہ بھی ورزش اور چہل قدمی کیلئے تیار رہیں گے جو کہ ایک صحتمند معاشرہ کی تشکیل میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔سروے رپورٹ کے مطابق بلدی حدود میں جملہ 521چھوٹے محلوں اور کالونیوں کے پارک ہیں جبکہ بلدی حدود میں ہزاروں محلہ جات موجود ہیں اور لاکھوں کالونیاں بن چکی ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے ہریتا ہرم کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے شجرکاری کی گئی لیکن اس کے نتائج عوام اور حکومت کے سامنے ہے لیکن اگر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے نئے پارکس کے قیام اور ان کی ترقی کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں نہ صرف شہر میں فضائی آلودگی میں کمی واقع ہوگی بلکہ شہریوں میں ورزش اور چہل قدمی کا رجحان بڑھے گا۔شہری اس بات کی بھی شکایات کر رہے ہیں کہ کئی کالونیوں میں جہاں پارک کیلئے جگہ مختص کی جا چکی ہے اور جگہ موجود ہے اس کی ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ پارک کی اراضی کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں کھلی وسیع اراضیات کی عدم موجودگی کے سبب نئے پارک کی تعمیر و ترقی کے متعلق منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT