Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / شہری علاقوں میں حفظان صحت ناکام، ہیلت ٹورازم کو فروغ کا دعویٰ

شہری علاقوں میں حفظان صحت ناکام، ہیلت ٹورازم کو فروغ کا دعویٰ

بارکس کمیونٹی ہیلت سنٹر کی ابتر صورتحال، متعلقہ رکن اسمبلی کی حکومت سے نمائندگی بھی بے اثر
حیدرآباد۔12فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ شہری علاقوں میںحفظان صحت میں ناکام ہوتی جا رہی ہے اور دعوے کئے جا رہے ہیںکہ ریاست میں ہیلت ٹورازم کو فروغ دیا جائے گا۔ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقہ بارکس میں موجود کمیونٹی ہیلت سنٹر کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے اور آپریشن تھیٹر بند کردیئے جانے کے سبب جو معمولی آپریشنس کے لئے مریض رجوع ہوا کرتے تھے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں اور محکمہ کو واقف کروایا جا چکا ہے اس کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ صحت کو اس قدیم کمیونٹی ہیلت سنٹر کی برقراری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مقامی عوام نے بتایا کہ رکن اسمبلی جناب اکبر الدین اویسی اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد جناب اسد الدین اویسی کی جانب سے بھی آپریشن تھیٹر کی از سرنو کشادگی کیلئے متعدد نمائندگیاں کی گئیں لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت نے اس دواخانہ میں جنرل سرجن کے تقرر کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جس کے سبب مقامی عوام کے علاوہ اطراف و اکناف سے علاج کے لئے پہنچنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارکس کمیونٹی ہیلت سنٹر میں موجود ڈاکٹرس میں جنرل سرجن کی خدمات پر معمور ڈاکٹرس کے تبادلہ کے بعد پیدا شدہ حالات کے سبب دواخانہ کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دواخانہ میں تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اندرون 2سال 1400 چھوٹے سرجریز انجام دیئے جا چکے ہیں لیکن حالیہ 6تا8کے دوران حالات میں تیزی سے تبدیلی رونما ہوئی ہے جس کے سبب دواخانہ کی کارکردگی شدید متاثر ہورہی ہے۔ اس دواخانہ کی سہولتوں سے استفادہ کرنے والوں میں صرف بارکس کے عوام نہیں ہیں بلکہ دواخانہ میں معمولی آپریشنس کی اطلاع عام ہونے کے بعد اطراف کے علاقوں سے بھی مریض رجوع ہونے لگے تھے۔ بارکس کے اطراف نوآبادیاتی علاقہ جہاں غریب و متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی گنجان آبادیاں ہیں ان کے لئے یہ دواخانہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے لیکن دواخانہ میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں ختم کئے جانے سے بہتر علاج کی سہولت سے لوگ محروم ہونے لگے ہیں۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل چیف منسٹرمسٹر این کرن کمار ریڈی کے دور میں دواخانہ کی ترقی کیلئے ایک کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ اس وقت 10سال سے دواخانہ میں آپریشنس کا سلسلہ بلکلیہ طور پر مفلوج ہو گیا تھا لیکن اس کے بعد جب تلنگانہ کی تشکیل عمل میںآئی تو دواخانہ میں آپریشنس کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا لیکن یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا اور سرجن کا تبادلہ کردیئے جانے کے بعد اب 8ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور آپریشنس کا سلسلہ مفقود ہے۔ جناب طلحہ الکثیری نے بتایا کہ اس سلسلہ میں متعدد نمائندگیاں کی جا چکی ہیں اور مقامی عوام نے دواخانہ میں موجود سہولتوں میں اضافہ اور آپریشن تھیٹر کی فوری کشادگی کیلئے سیاسی وابستگی سے بالاتر مہم شروع کردی ہے اور بہت جلد تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مقامی قائدین محکمہ صحت کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دواخانہ سے رجوع ہونے والوں میں بڑی تعداد بالاپور‘ پہاڑی شریف‘ ہاشم آباد‘ بندلہ گوڑہ‘ نوری نگر‘ اسمعیل نگر‘ شاہین نگر کے علاوہ راجیوگاندھی نگر کے مکینوں کی ہے جو دواخانہ میں موجود سہولتوں کے سبب یہاں تک پہنچتے ہیں لیکن اب انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے بموجب اس مسئلہ کے حل کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن مقامی عوام کا الزام ہے کہ دواخانہ کیلئے مختص فنڈس کا بھی مکمل استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی اور آپریشن تھیٹر کے عدم آغاز پر مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا جانے لگا ہے کہ محکمہ صحت کے عہدیدار خانگی نرسنگ ہومس اور دواخانوں سے ملی بھگت کے ذریعہ 60بستروں پر مشتمل اس دواخانہ میں موجود سہولتوں کو ختم کرنے کوشاں ہیں کیونکہ اس دواخانہ میں معمولی آپریشنس جن کیلئے خانگی دواخانوں میں 20تا50ہزار خرچ آتا ہے وہ مفت ہونے لگے تھے اور مریض اس سرکاری دواخانہ میں فراہم کی جانے والی سہولت سے بھرپور استفادہ کرنے لگے تھے جس کے سبب خانگی دواخانوں کو نقصان ہورہا تھا اور اب مریض ان خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے پر مجبور ہونے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT