Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / شہر حلب کا بحران

شہر حلب کا بحران

تقدیر کا شکوہ بے معنی ، جینا ہی تجھے منظور نہیں
آپ اپنا مقدر بن نہ سکے ، اتنا تو کوئی مجبور نہیں
شہر حلب کا بحران
مشرق وسطیٰ میں خون ریزی کو روکنے کی عالمی کوششوں کا ایک ناکام مظاہرہ جب تک جاری رہے گا انسانی جانوں کے اتلاف کی تعداد کس حد تک پہنچے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔ شام، عراق، فلسطین، مصر اور دیگر عرب ممالک کی تباہی کی آرزومند مغربی طاقتوں نے انسانیت کو شرمسار کرنے والی تمام حدوں کو پار کرلیا ہے۔ شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر دنیا مضطرب ہے، بے چینی اور بے قراری قلب  کے ساتھ لوگوں نے یہ منظر بھی دیکھا ہیکہ ایک کمسن عمران دقنیش چہارشنبہ کے روز شام کے شہر حلب کے مشرقی علاقہ قطرجی پر ایک فضائی بمباری میں زخمی ہوگیا تھا۔ اس معصوم کی تصویر جب سوشیل میڈیا کے ذریعہ عام ہوئی تو اس صدمہ زدہ بچے کا چہرہ اور باقی جسم خون و گرد میں لت پت تھا۔ اس کے چہرے اور جسم کے دیگر حصوں سے خون بہہ رہا تھا۔ شام میں جاری تشدد اور ہولناک فضائی کارروائیوں کی وجہ سے جو کچھ رونما ہورہا ہے اس کی حقیقی عکاسی اس معصوم بچہ کے لہولہان جسم سے ہوتی ہے۔ شام کی صورتحال پر صرف افسوس ظاہر کرنے والے عالمی طاقتوں نے اس منظر کو بھی بھلا دیا ہے جب ایک سال قبل ترکی کے ساحل پر ایک 3 سالہ بچے ایلان کردی کی نعش سمندر میں تیرتی ہوئی کنارے پر پہنچی تھی۔ تارکین وطن کی کشتی غرقاب ہونے کے بعد یہ بچہ ساحل سمندر پر دستیاب ہوا تھا۔ شام میں قتل عام کو روکنے کے بجائے ہر بڑی طاقت اپنی دانست میں مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی جارہی ہے۔ اس بچہ کو حیات مل چکی ہے اس کے ساتھ اس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اگرچیکہ شام کے شہر حلب میں فضائی حملے سے تباہ ہونے والی عمارت سے بچائے جانے والے اس زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ آج یہ دنیا جس تصویر کو دیکھ کر غم و غصہ کا اظہار کررہی ہے ایسی تصویریں تو شام میں ہر روز ابھرتی رہتی ہیں۔ شام کی صورتحال کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے جو منظرکشی کی ہے وہ اس تصویر سے زیادہ دردناک ہے۔ جن مقامات پر اندھادھند بمباری کی جاتی ہے اس مقام پر تباہی کو دیکھ کر انسانی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ شہر حلب میں ہزاروں اموات ہورہی ہیں۔ بچوں کی زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں۔ 15 مارچ 2011ء سے یہاں اندھادھند فضائی کارروائیوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور بے بس کردیا ہے۔ حلب میں جاری جرائم پر ساری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جو لوگ مر گئے ان کی زندگی ہمیشہ کیلئے سکون میں آ گئی لیکن جو زخمی ہیں یا بے یار و مددگار ہوچکے ہیں ان کا جینا ایک بھیانک سانحہ بنا ہوا ہے۔ عمران دقتش جیسے ہزاروں بچے بمباری کا شکار ہوکر کئی ٹن ملبہ میں دب کر ہمیشہ کیلئے میٹھی نیند سلا دیئے جارہے ہیں۔ اس شہر کی صورت گیری سے واقف کاروں نے دردناک مناظر بھی پیش کئے ہیں۔ انسانیت دشمن طاقتیں یہاں ہر طرح کے ہتھیار استعمال کررہی ہیں۔ ہر طرح کی نوعیت کے جرائم اس شہر میں دیکھے جارہے ہیں۔ یہاں رہنے والے انسانوں کی زندگیاں عذاب ناک بن رہی ہیں۔ حلب اور شام کی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی کسی نے بھی ہمت نہیں دکھائی ہے۔ شہرحلب ملک شام کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ باغیوں کے زیرقبضہ علاقہ اور سرکاری افواج کے زیرکنٹرول علاقہ میں تقسیم ہوگیا ہے۔ جو لوگ شہر میں رہنے کی ہمت کررہے ہیں یا یہاں رہنے کیلئے مجبور ہیں انہیں ہر روز موت کے منہ سے ہوکر گذرنا پڑرہا ہے۔ عالمی ادارہ اقوام متحدہ اپنے ایرکنڈیشنڈ پسند کمروں میں بیٹھ کر شام اور شہر حلب کی کیفیت کے بارے میں صرف اظہارخیال کرسکتا ہے۔ اس کے درد اور ہولناکیوں کو محسوس نہیں کرسکتا۔ انسانی حقوق کے قانون کے عالمی اصولوں کی جہاں تک بات ہے حلب میں یہ قانون اور حقوق بالائے طاق رکھ دیئے گئے ہیں۔ حلب شہر کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبہ سے اٹھنے والے کمسن بچہ عمران دقتیش کی تصویریں اگر ساری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر مضطرب و بے قرار کررہی ہے اس سچائی کے باوجود ساری دنیا شام کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام ہے۔ شام کے عوام اس وقت جن حالات سے گذر رہے ہیں اس پر صرف تبصرے کرنے سے راحت و سکون نہیں ملتا بلکہ اس مسئلہ پر توجہ دینے کیلئے ساری دنیا کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ عمران دقتیش پر ساری دنیا ماتم کناں ہونے کے درمیان حلب میں لڑائی جاری ہے۔ صدر شام بشارالاسد نے انسانی بنیادوں پر لڑائی روک دینے سے اتفاق کیا لیکن جنگ اور بمباری کو روکنے کیلئے کوئی اشارہ نہیں دیا۔ شام میں فی الفور لڑائی اور بمباری کو روک دیا جانا چاہئے جس کے بعد اس ملک کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ شام کی خانہ جنگی کو ختم کرنے کیلئے سفارتی مذاکرات کی وکالت کرنے کے علاوہ سیاسی مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے فوری کوشش کی ضرورت ہے۔ امریکہ، روس اور دیگر ملکوں کی پالیسیوں نے اس سارے خطہ کو غیرمستحکم بنادیا ہے۔
ریو اولمپکس اور ہندوستان
ریو اولمپکس میں ریسلر ساکشی نے ہندوستان کو برونز میڈل دلایا جبکہ بی وی سندھو نے بیڈمینٹن میں سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ دونوں اتھیلیٹس نے ہندوستان کو عالمی کھیل مقابلوں میں قابل فخر بنادیا لیکن اس کامیابی کے آگے اور بھی میدان ہیں جہاں ہندوستان دیگر ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی کامیابی نے ہندوستانیوں کیلئے مسرت فراہم کی ہے۔ ساکشی اور سندھو کی غیرمعمولی کامیابی کے باوجود بھی ہندوستان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ میڈلس حاصل کرنے کے امکانات موہوم ہوتے جارہے ہیں۔ اولمپکس میں ہندوستان کا مظاہرہ مایوس کن ہی رہا ہے۔ 1992ء سے اب تک ہندوستان نے کوئی مقام نہیں بنا پایا۔ صرف خاتون ریسلر ساکشی ملک میں ریو گیمس کیلئے ہندوستان کا پہلا میڈل جیت سکی۔ ملک نے اس سے زیادہ کی توقع کی تھی مگر قومی سطح پر اتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کیلئے سرکاری عدم توجہی نے کئی خرابیاں پیدا کی ہیں۔ زائد  از 1.31 ملین آبادی والے اس ملک میں اسپورٹس کے لاکھوں شائقین ہیں مگر اولمپکس اسپورٹس میں حریف ممالک روس اور چین کے مقابل ہندوستان کے کمزور مظاہرہ نے ہندوستانی اسپورٹس شائقین کو مایوس کردیا ہے۔ معاشی طور پر تیزی سے ترقی کرنے والے ہندوستانی اسپورٹس کے میدان میں پیچھے ہے۔

TOPPOPULARRECENT