Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / شہر حیدرآباد اور جی ایچ ایم سی

شہر حیدرآباد اور جی ایچ ایم سی

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لیے اس سال مانسون کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔ اس کی ماقبل مانسون تیاریوں اور انتظامات میں دیکھی جارہی کوتاہیوں سے شہریوں کو جن نازک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں نشیبی علاقوں میں رہنے والے عوام کی صورتحال بہت ہی دگرگوں ہوگی ۔ ڈرینج کا پانی ، بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے بنائی گئی موریوں کی عدم صفائی مٹی اور کچرا پھنس جانے سے پانی کا بہاؤ بند ہونے سے کئی علاقہ زیر آب آئیں گے ۔ مانسون سے قبل کی بارش نے ہی شہر کی بلدی صورتحال کو عیاں کردیا ہے ۔ شہر میں ایسے کئی نالے ہیں جن کے ذریعہ ڈرینج اور بارش کا پانی بہہ جاتا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کو ان نالوں کی صفائی ایک تکلیف دہ مرحلہ ثابت ہورہی ہے ۔ کیوں کہ 842 غیر مجاز اسٹرکچر ایسے ہیں جو ان نالوں پر بنائے گئے ہیں ۔ بلدی حکام کو اگر چیکہ ان غیر مجاز اسٹرکچرس کو ہٹانے کا اختیار ہے مگر بلدی عہدیداروں کی لاپرواہی کی وجہ سے نالے ناجائز قبضوں کے زیر اثر آچکے ہیں ۔ 173 نالوں پر 12,182 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کرلیے جانے کے باوجود جی ایچ ایم سی عملہ ان تمام کو برخاست کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے ۔ اس طرح شہر کی سڑکوں کا خستہ حال بارش کے تھوڑے سے پانی سے تالاب کا منظر پیش کرتا ہے ۔ مانسون کی تیاری میں ناکام جی ایچ ایم سی کو عوامی شکایات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شہریوں کے سامنے جی ایچ ایم سی کے دعوے تو بلند ہوتے ہیں عملی طور پر جب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جی ایچ ایم سی کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 27.84 کروڑ روپئے کا مانسون ایکشن پلان تیار ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے مانسون سے متعلق 300 کاموں کو انجام دیا ہے ۔ سڑکوں کے کھڈ بھرنے کے لیے 48 ٹیمیں کام کررہی ہیں لیکن اس کا اثر کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا ۔ بارش نے یہ بھی ثابت کردیا کہ شہر کے فلائی اوورس کی تعمیر کس ناقص طریقہ سے انجام دی گئی ہے ۔ کیوں کہ بارش کا پانی فلائی اوورس کی چھت سے راہ چلنے والوں پر ٹپکنے لگتا ہے تو یہ میٹرو ریلوے یا فلائی اوورس کی تعمیرات کے نقائص کو بھی عیاں کردیتا ہے ۔ شہر کا ڈرینج سسٹم بھی پرانا ہے ۔ جس بارے میں کمشنر جی ایچ ایم سی بی جناردھن ریڈی کا اعتراف ہے کہ شہر کے ڈرینج نظام کے ذریعہ صرف 2 سنٹی میٹر بارش کے پانی کی نکاسی ممکن ہے جب کہ شہر میں حالیہ بارش 9 سنٹی میٹر ریکارڈ کی گئی جب شہر کی سڑکوں اور ڈرینج نظام کا مسئلہ ہی ناقص ہو تو پھر شہریوں کو بہتر نقل و حرکت کی امید رکھنا فضول ہے ۔ ٹاون پلاننگ شعبہ کے لیے کوئی کام باقی نہیں رہا ہے تو بلدیہ کو ایسے شعبہ پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ پلاننگ کے بغیر شہر کی وسعت پذیری کی اجازت دینا آنے والے برسوں میں مزید مسائل اور بلدی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شہر کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کا حال اس سے زیادہ ابتر ہے ۔ راستہ چلنے والے موٹر رانوں کے لیے یہ سڑکیں ریڑھ کی ہڈی کے درد اور عارضہ سے دوچار کررہی ہیں ۔ شہر کی سڑکوں کی توسیع کے بعد ملبہ اور کچرا یوں ہی چھوڑ دینے سے بھی گندگی جیسا ماحول نمایاں ہورہا ہے ۔ شہر میں سڑکوں کی کشادگی کے بعد سب سے اولین کام درمیان میں موجود برقی پولس کو نکالنا ہوگا ہے مگر برسوں تک یہ برقی پولس سڑک کے بیچ نظر آتے ہیں اور یہ پولس موجود ہیں ۔ ان میں سے صرف 110 برقی پولس کو سڑک کے درمیان میں سے نکال دیا گیا ۔ شہر میں مانسون اور رمضان المبارک کے موقع پر صاف صفائی کا خاص انتظام کرنے کے لیے بلدی حکام کے کئی اجلاس بھی منعقد ہوئے ہیں اور ہر اجلاس میں متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت بھی جاری کی گئی مگر کسی بھی ماتحت بلدی عملہ کو اپنی ذمہ داری اور فرض شناسی کا احساس ہی دکھائی نہیں دیتا ۔ سڑکوں کے کنارے ٹھیلہ بنڈیوں کی بڑھتی تعداد کے بعد بلدیہ نے ان کے لیے شرائط و ضوابط لانے کا فیصلہ کیا ہے مگر کوئی بھی ٹھیلہ بنڈی راں اپنا کاروبار سڑک کے کنارے نہیں کرتا وہ دھیرے دھیرے اپنی ٹھیلہ بنڈی سڑک کے درمیان تک پہونچا دیتا ہے جس سے ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ شہری مسائل سے نمٹنا جی ایچ ایم سی کا فریضہ ہے لیکن شکایات اور حقائق سے یہی پتہ چلتا ہے کہ بلدی حکام نے خود کو ماقبل مانسون کی تیاری سے دور رکھا ہے ۔ جی ایچ ایم سی میں تقریباً 22000 آوٹ سورسیس ملازمین کام کرتے ہیں ۔ 18382 ملازمین صفائی کرمچاری ہیں لیکن مانسون کے دوران لاحق ہونے والی ایمرجنسی خدمات کو انجام دینے میں یہ عملہ فرض شناسی کا مظاہرہ کرسکے گا یہ کہنا بعید از قیاس ہے ۔ بہر کیف جی ایچ ایم سی کو اپنے منصوبوں کے مطابق عمل سر انجام دینے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT