Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے شہری وبائی امراض کا شکار

شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے شہری وبائی امراض کا شکار

ضلع انتظامیہ اور جی ایچ ایم سی خواب غفلت میں ، نکڑوں پر کوڑا کرکٹ ابل رہا ہے
حیدرآباد۔4اگسٹ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے شہری وبائی امراض میں مبتلاء ہوتے جا رہے ہیں لیکن نہ ہی ضلع انتظامیہ کو اس بات کی فکر لاحق ہے اور نہ ہی مجلس بلدیہ حیدرآباد فکر مند نظر آرہی ہے بلکہ کچہرے کے انبار کی صفائی نہ کرتے ہوئے شہریوں کو مزید بیماریوں میں مبتلاء کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ شہرمیں سوچھ حیدرآباد کے نام پر چلائی گئی مہم کے بعدیہ توقع کی جا رہی تھی کہ شہر حیدرآباد میں ’’جنم بھومی‘‘ کے طرز پر ایک مرتبہ پھر شہر میں صفائی کا انتظام ہوگا اور گلی کوچے و سڑکیں کی صاف ستھرے نظر آئیں گے لیکن شہریان حیدرآباد کے یہ خواب چکنا چور ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران شہرمیںپھیلے وبائی امراض کو روکنے کی کوششیں کہیں ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں بلکہ شہر میں پھیلے کچہرے کے انبار کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہراور شہر یوں کے مسائل سے حکومت کو دلچسپی ہی نہیں ہے۔ حکومت با لخصوص وزارت بلدی نظم ونسق کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو دیکھتے ہوئے شہریوں میں مایوسی پیدا ہوتی جا رہی ہے اور شہری یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ ریاستی حکومت شہری علاقوں میں صحت عامہ کی حفاظت میں ناکام ہے تو اس حکومت اور وزراء سے دیہی علاقوں کے عوام کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ شہرمیں 70فیصد سے زائد گھروں میں بچے وبائی امراض میں مبتلاء ہیں اور خانگی دواخانوں میں مریضوں کی بہتات نظر آرہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ منتخبہ نمائندوں کو اس سلسلہ میں ہوش ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے طبی کیمپس کے انعقاد کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں میں وبائی امراض کی بہتات کی بنیادی وجہ شہر میں جاری مسلسل موسمی تبدیلی کے ساتھ کچہرے کی عدم نکاسی وغیرہ شامل ہیں۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے بلدی عہدیداروں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے جائزہ اجلاس میں کچہرے کی منتقلی کے امور پر تبادلۂ خیال اور فیصلے کئے جا رہے ہیں لیکن شائد شہر میں ان فیصلوں پر عمل آوری دشوار ہے کیونکہ اخبارات میں فیصلوں اور ہدایتوں کے متعلق خبریں تو شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ صرف کاغذی بیانات ہیں۔ شہر میں بلدی انتخابات سے قبل مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کوڑے دان اور کچہرے کی منتقلی کے آٹوز کی تقسیم کے ذریعہ یہ تاثر دیا گیا کہ بہت جلد شہر میں کچہرے کی صفائی کا بہتر انتظام ہوگا لیکن اب تک تو ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ حیدرآباد میں جاری وبائی امراض کے دوران عوام میں حکومت اور منتخبہ عوامی نمائندوں کے خلاف شدید برہمی پائی جا رہی ہے کیونکہ حکومت اور بلدی عہدیدار ان مسائل پر توجہ نہیں کر رہے ہیں اور دعوے کئے جا رہے ہیں کہ شہر کو اسمارٹ سٹی اور ورلڈ کلاس سٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پرانے شہر کے عوام کا کہنا ہے کبھی کبھی اس بات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے اچانک دورے ہو رہے ہیں لیکن پرانے شہر میں کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ شہر کے اس خطہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور پرانے شہر میں ہر طرف کچہرے کے انبار اور پھیل رہے وبائی امراض پر کسی گوشہ سے توجہ نہیں دی جا رہی ہے بلکہ شہریوں کو علاج کیلئے مناسب سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنا نے پر توجہ نہیں دے جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کی جانب سے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے اعلانات پر مؤثر عمل آوری ناگزیر ہے اور فوری طور پر خانگی دواخانوں کو اس بات کی ہدایات جاری کی جائیں کہ شہر میں جاری وبائی امراض میں مبتلاء مریضوں کا مفت علاج شروع کیا جائے تاکہ شہریوں کو معیاری علاج کی سہولت میسر ہو سکے۔

TOPPOPULARRECENT