Sunday , April 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر حیدرآباد کی رواداری اور بقائے باہم ملک بھرکیلئے قابل تقلید

شہر حیدرآباد کی رواداری اور بقائے باہم ملک بھرکیلئے قابل تقلید

قلی قطب شاہ کے سیکولر انتظامیہ کا تسلسل برقرار ، نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کا خطاب
حیدرآباد۔/13اپریل،( سیاست نیوز) نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے حیدرآباد کی درخشاں تاریخ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر کی رواداری اور بقائے باہم کی پالیسی جاری رہے گی اور ملک بھر کیلئے قابل تقلید مثال ہوگی۔ ڈاکٹر حامد انصاری آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں محمد قلی قطب شاہ پہلا یادگاری لکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی سیاست نے جو سیاسی، سماجی اور معاشی کلچر کو اقدار عطا کئے ہیں وہ اب بھی ہندوستان کی سیاست میں اپنا حصہ ادا کررہے ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ کے دور اقتدار کو حیدرآباد کی سیاست کا منبع قرار دیتے ہوئے ان مؤرخین کا حوالہ دیا جنہوں نے قلی قطب شاہ کے انتظامیہ کو سیکولر رنگ دیا تھا۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ مقامی زبان تلگو محمد قلی کیلئے مادری زبان کی طرح تھی اور سرکاری فرامین ہمیشہ دونوں زبانوں میں جاری کئے جاتے تھے۔ نائب صدر نے تاریخ داں ہارون خاں شیروانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد قلی قطب شاہ کے والد ابراہیم قطب شاہ کے دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امتیاز نہیں تھا اور ریاست کے اُمور میں بھی دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کی روایت تھی۔ انہوں نے مختلف مؤرخین کا حوالہ دیتے ہوئے قلی قطب شاہ کی روایات کو موجودہ دور میں آگے بڑھانے اور نئی نسل کو واقف کروانے کی ضرورت ظاہر کی۔ نائب صدر جمہوریہ نے ’’ ایک متمول تاریخ کا علاقائی ورثہ ‘‘ کے عنوان سے اپنے لکچر میں کہا کہ موجودہ حیدرآباد صلاحیتوں کے اعتبار سے 21ویں صدی میں اپنا نمایاں مقام بنا چکا ہے اور اسے آگے بھی جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے حیدرآباد کی تہذیبی و ثقافتی روایات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو حیدرآباد کی پیروی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حامد انصاری نے عہد وسطیٰ کے سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغلوں کو دکن اور ایران کے سفارتی تعلقات گوارا نہیں تھے اس کے علاوہ انہیں دکن میں جمعہ کے خطبوں میں شاہ ایران کا نام لیا جانا پسند نہیں تھا۔ دراصل ایران سے دکن کی قربت کی وجہ مفادات اور تصورات کا تصادم پیدا ہوگیا تھا اور مغل حکمراں اسے اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ اس کشمکش کا اختتام آخر کار دکن پر مغلوں کے قبضہ پر ہوا۔ حامد انصاری نے قلی قطب شاہ کی مذہبی رواداری، ہندو مسلم شہریوں سے یکساں سلوک، انسان دوستی، سخاوت اور علم و ادب کی قدردانی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ قلی قطب شاہ نے اپنی بے پناہ مدبرانہ صلاحیتوں سے شہر حیدرآباد کو جنت ارضی بنادیا تھا، وہ تلسی داس، سورداس اور میرا بائی کے ہم عصر تھے۔ ان کی شاعری ان کی شخصیت کا پَرتو ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے شہر حیدرآباد کو بسانے کی تاریخ اور بانی حیدرآباد کی دعا کا ذکر کیا اور مؤرخین کے حوالے سے قطب شاہی خاندانی وراثت اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے قلی قطب شاہ کی سیاسی، ادبی اور علمی خدمات کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وسیع القلب ، سیکولر اور انسان دوست حکمراں تھے۔ وہ مغل شہنشاہ اکبرکے ہم عصر تھے اور دونوں میں رواداری، علم و ادب کی قدردانی کی خصوصیات مشترک تھیں۔ قلی قطب شاہ کو اردو کے ساتھ تلگو سے بھی یکساں محبت تھی اور وہ حیدرآباد کے پہلے صاحب دیوان شاعر ہیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ یونیورسٹی نے قلی قطب شاہ میموریل لکچر سیریز کا آغاز کیا ہے اور ہر سال کسی دانشور کو مدعو کیا جائے گا۔ تقریب میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن اور نائب وزیر اعلیٰ محمد محمود علی نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز طالب علم امجد نور کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT