Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں آئندہ ماہ سے پانی کی شدید قلت کا اندیشہ

شہر میں آئندہ ماہ سے پانی کی شدید قلت کا اندیشہ

حمایت ساگر و عثمان ساگر کی سطح آب میں کمی، سنگور ذخیرہ آب بھی ناکافی
حیدرآباد ۔7 نومبر ۔ ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو آئندہ ماہ ڈسمبر کے دوران شدید پانی کی قلت کا خدشہ ہے ۔ محکمہ آبرسانی کے بموجب ماہ ڈسمبر سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں مقیم 75 فیصد شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شہری علاقوں کو پانی کی سربراہی کرنے والے ذخائر آب میں پانی کی قلت انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے ۔ عہدیداروں کے بموجب جاریہ موسم باراں کے دوران ناکافی بارش کے سبب ذخائر آب میں موجود پانی آئندہ ایک سال کیلئے ناکافی ہے ۔ عثمان ساگر جس کی سطح آب 3.900 ٹی ایم سی ہے اُس میں فی الحال صرف 0.079 ٹی ایم سی پانی موجود ہے جبکہ حمایت ساگر میں 0.306 ٹی ایم سی پانی موجود ہونے کی اطلاع ہے ۔ حمایت ساگر کی سطح آب 2.967 ہے ۔ دونوں ذخائر آب میں موجود پانی کے متعلق محکمہ آبرسانی کا کہنا ہے کہ یہ پانی جاریہ ماہ کے اوآخر یا آئندہ ماہ کے اوائل تک ہی کافی ثابت ہوگا ۔ اسی طرح شہر کو سنگور سے بھی پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور سنگور ڈیم میں صرف 1.438 ٹی ایم سی پانی موجود ہے جبکہ سنگور ڈیم کی سطح آب 29.917 ٹی ایم سی ہے ۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ناکافی بارش کے سبب شہریوں کو سربراہی آب بڑا مسئلہ بننے کا خدشہ ہے اسی لئے اس بات کا جائزہ لیا جارہاہے کہ کرشنا واٹر اور گوداوری مرحلہ I کے پانی سربراہی کو یقینی بنایا جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے صرف اور صرف کرشنا اور گوداوری کے پانی پر انحصار کیا جارہا ہے اور واضح طورپر یہ کہا گیا ہیکہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے کرشنا ڈرنکنگ واٹر سپلائی اسکیم مرحلہ III اور گوداوری کے مرحلہ I پر انحصار ناگزیر ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں واقع علاقہ قطب اﷲ پور ، پٹن چیرو ، کوکٹ پلی ، بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، سوماجی گوڑہ ، ایرا گڈہ ، امیرپیٹ ، سنجیواریڈی نگر ، یوسف گوڑہ ڈسمبر کے اوائل میں ہی پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوں گے جبکہ بتدریج شہری علاقوں میں پانی کی سربراہی متاثر ہونے لگے گی ۔ عثمان ساگر و حمایت ساگر کے علاوہ منجیرا و سنگور ڈیم کی سطح آب میں آرہی گراوٹ کے سبب محکمہ آبرسانی تشویش کا شکار ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے فی الحال دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ بلدی حدود میں کرشنا اور گوداوری کے پانی کی سربراہی 45 ملین گیالن یومیہ پہونچ چکی ہے۔ کرشنا مرحلہ III کے سلسلے میں پائپ لائین کی تنصیب کا عمل عدالتی احکام کے مطابق شروع کردیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ پرشاسن نگر جوبلی ہلز کے علاوہ دیگر علاقوں میں ڈسمبر کے اوآخر تک پائپ لائین کی تنصیب کاعمل مکمل کرلیا جائے گا ۔ سربراہی آب کی قلت سے نمٹنے کیلئے یہ اقدامات بھی ناکافی ہونے کا خدشہ ہے ۔ علاوہ ازیں زیرزمیں پانی کی سطح میں آرہی مسلسل گراوٹ بھی محکمہ کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT