Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / شہر میں بارش اور بلدیہ

شہر میں بارش اور بلدیہ

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی لاپرواہی کو آشکار کرنے والی بارش نے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے عوام کو بلدی ایجنسیوں کی کوتاہیوں سے ہونے والی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے ڈر رہے ہیں، جگہ جگہ کھڈ، کھلے مین ہولس، ڈرینج سے اُبلتا گندا پانی ،ہر جگہ سڑکوں کی خستہ حالت نے ہر ایک شہری کو جن میں اسکولی طلبہ اور سینئر سٹیزنس بھی ہیں ، جوکھم بھرے حالات سے دوچار کردیا ہے۔ دونوں شہروں کے عوام نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے منتخب کیا تھا، اس اُمید کے ساتھ ووٹ دیئے تھے اور ٹی آر ایس کے وعدوں پر شہریوں نے اعتبار کیا تھا۔ میٹرو ریل کے کاموں کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈ اور جان لیوا حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں کہ اب بارش کے موسم نے موٹر رانوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بلدیہ کے ساتھ حیدرآباد محکمہ آبرسانی ہو یا مقامی منتخب کارپوریٹرس ،عوام کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہے۔ سب سے زیادہ برا حال حیدرآباد میں پرانے شہر کا ہے جہاں بارش نے کئی علاقوں کو زیرآب بنانے کے ساتھ مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ چارمینار، لاڑ بازار، پتھرگٹی ، خلوت، شاہ علی بنڈہ، حسینی علم، تالاب کٹہ، کالے پتھر، نواب صاحب کنٹہ، کاروان، نیا پل، منگل ہاٹ اور جھرہ علاقے بلدی عہدیداروں اور صفائی کرمچاریوں کی مجرمانہ غفلت کو آشکار کرچکے ہیں۔ سڑکوں پر پانی ٹھہرنے سے موٹر رانوں کو گہرے کھڈ یا کھلے مین ہولس کا اندازہ نہیں ہوتا جس سے کئی موٹر سوار حادثہ کا شکار ہوتے ہیں۔ ٹی آر ایس نے بلدی انتخابات میں کامیابی کے بعد شہر کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے اور بہتر سڑکوں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ آج شہر کی صورتحال پہلے سے زیادہ ابتر بلکہ کھنڈر نظر آرہی ہے۔ شہر کی سڑکوں، چوراہوں، گلی کوچوں میں چلنا پھرنا جوکھم بھرا ہوگیا ہے۔ ایک معمولی سی بارش عوام کی جان لینے کا باعث بن رہی ہے۔ جی ایچ ایم سی کو شاید شہر کی آبادی کم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس لئے وہ سڑکوں، ڈرینیجوں، فٹ پاتھوں اور دیگر راہ چلنے والے افراد کے راستوں کو ابتر حالت میں چھوڑ دینے پر فخر کررہی ہے۔ ہر سال بلدیہ کا بجٹ منظور ہوتا ہے مگر کارکردگی کے معاملہ میں نصف دلچسپی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ بلدیہ کے اعلیٰ عہدیدار بظاہر اپنی کارکردگی کو بہتر سمجھتے ہیںاور وقتاً فوقتاً بلدی کام کے اجلاس میں اپنی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتے ہیں لیکن جب خراب سڑکوں کے بارے میں شہریوں کی شکایت میں شدت پیدا ہوتی ہے تو بلدی حکام سڑکوں کی مرمت پر بلدی انجینئرنگ شعبہ کیلئے ورکشاپ منعقد کرکے کاموں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ شہر کو پانچ زونس میں تقسیم کرنے والی بلدیہ کے پاس عصری ٹیکنالوجی اور بجٹ کی کمی کی شکایت ہے، اس کے علاوہ سڑکوں کو درستگی کیلئے مقررہ اُصول اختیار نہیں کئے جاتے۔ بلدی عہدیداروں کیلئے منعقد ہونے والے ورکشاپس میں بعض چیزوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے مگر اس کے نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہوتے۔ کمشنر بلدیہ نے حال ہی میں 75 کروڑ کے سڑکوں کی مرمت والا پلان تیار کیا تھا۔ کھڈ بھرنے کیلئے بھاری مشینری خریدی گئی ہے مگر ان مشینوں کا استعمال بھی تیکنیکی مسائل سے دوچار ہوجاتا ہے۔ بارش سے قبل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے روڈز اینڈ بلڈنگس کے عہدیداروں سے کہا تھا کہ بلدیہ جلد سڑکوں کی تعمیر یقینی بنائے ۔ نئے شہر میں مدنی نگر، بورا بنڈہ، یوسف گوڑہ، امیر پیٹ یا نامپلی، بازار گھاٹ ، ملے پلی، آصف نگر، ٹولی چوکی کے علاقے تھوڑی سی بارش کے بعد شہریوں اور راہ چلنے والوں کے لئے تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے شہر حیدرآباد کی بلدی صورتحال ناقص اور افسوسناک ہوگئی ہے۔ شہر کی سڑکوں کو پائیدار بنانے کیلئے گزشتہ سال گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پلاسٹک سڑکیں اور سفید پرت کی سڑکیں بنانے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ سڑکیں دیرپا اور پائیدار رہ سکیں لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی وجہ بلدی حکام نے یہ بتائی کہ مختلف سرکاری محکموں کا گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مناسب تال میل نہیں ہے۔ شہریوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے جب شور مچایا گیا تو بلدیہ نے گزشتہ ڈسمبر میں شہر کی 489 سڑکوں کی نشاندہی کرکے مرمت کے کام کیلئے 75 کروڑ روپئے منظور کئے تھے، یہ کام کہاں انجام دیا گیا اور 75 کروڑ روپئے کہاں خرچ کئے گئے۔ یہ سب دھوکہ ہے جو عوام کی آنکھوں میں جھونک دیا جارہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT