Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں خستہ حالت کی 974 عمارتوں کو منہدم کرنے جی ایچ ایم سی کا فیصلہ

شہر میں خستہ حالت کی 974 عمارتوں کو منہدم کرنے جی ایچ ایم سی کا فیصلہ

بہت خراب حالت کی 220 عمارتوں بشمول اسکول بلڈنگس کو فوری منہدم کیا جائے گا
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( ایجنسیز ) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی نے 974 عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خستہ حالت میں ہیں ۔ اور ان سے خطرہ لاحق ہے ۔ ان میں سے 220 عمارتوں کو جو بہت خراب حالت میں ہیں فوری طور پر منہدم کردیا جائے گا جن میں بعض اسکولی عمارتیں بھی شامل ہیں ۔ ان عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کا آغاز تقریبا 20 دن میں ہوگا ۔ جی ایچ ایم سی ٹاون پلاننگ ونگ کی جانب سے مالیاتی سال 2016-17 کے لیے پری مانسون ایکشن پلان کے حصہ کے طور پر 1819 اسٹرکچرس کی نشاندہی کی گئی ہے جو خستہ حالت میں ہیں جن میں سے جی ایچ ایم سی نے کئی علاقوں میں 845 اسٹرکچرس کی مرمت کروائی ہے اور مابقی 974 اسٹرکچرس کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے چیف سٹی پلانر ایس دیویندر ریڈی نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی نے 220 عمارتوں کے مالکین کو نوٹسس جاری کئے ہیں جو بہت خراب حالت میں ہیں اور انہیں فوری طور پر منہدم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زونل کمشنر اور ڈپٹی کمشنرس کے زیر قیادت ایک ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے خطرہ کے باعث عمارتوں کا انہدام کرے گی ۔ دیویندر ریڈی نے کہا کہ خستہ حالت میں رہنے والی زیادہ سرکاری عمارتیں اسکول کی عمارتیں ہیں جو پرانے شہر بیگم بازار اور سکندرآباد جیسے علاقوں میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں کم از کم 20 گورنمنٹ اسکولس ہوسکتے ہیں جنہیں نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل نئی عمارتوں کو تلاش کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان عمارتوں کی انہدامی کارروائی تقریبا 20 دن میں شروع ہوگی اور واضح طور پر کہا کہ ان عمارتوں کو نوٹس جاری کرنے کے بعد ہی منہدم کیا جائے گا ۔ جی ایچ ایم سی کے چیف سٹی پلانر نے واضح طور پر کہا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے صرف ان ہی عمارتوں کو منہدم کیا جائے گا جو بہت خراب حالت میں ہیں اور دیگر عمارتوں کے مالکین کو ان کی مرمت کروانے کے لیے کہا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT