Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں زیر زمین پانی کی سطح بتدریج گھٹ رہی ہے

شہر میں زیر زمین پانی کی سطح بتدریج گھٹ رہی ہے

بورویل سوکھنے لگے ہیں ، شہریوں کے لیے صورتحال انتہائی تشویشناک
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) بارش کے باوجود شہر میں زیر زمین پانی کی سطح میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں بورویل سوکھنے لگے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود بورویل سوکھنے کی شکایات کے ساتھ ساتھ اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ ہزاروں فیٹ کھدوائی کے باوجود بور ویل میں پانی نہیں آرہا ہے جو کہ شہریو ںکے لئے باعث تشویش صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے بموجب بارش کے پانی کے عدم استعمال کے سبب یہ تشویشناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ 70فیصد سے زائد بارش کا پانی ضائع ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے زیر زمین سطح آب میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے نہ دینے کے سبب پیدا ہونے والی اس صورتحال سے اسی وقت نجات مل سکتی ہے جب بارش کے پانی کو جمع کرنے کیلئے حکومت کے منصوبہ کے مطابق گھروں میں بھی کھڈ بنائے جائیں تاکہ ان کے ذریعہ بارش کا پانی زمین میں پہنچ سکے۔ عہدیداروں کے بموجب شہری علاقوں میں بالخصوص جی ایچ ایم سی حدود میں 50 فیصد مکانات بھی ایسے نہیں ہیں جن میں بارش کے پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے ہوں ۔ بتایاجاتا ہے کہ جاریہ موسم گرما کے دوران شہریان حیدرآباد کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ابتدائی گرما میں تو ایسے حالات نہیں ہیں لیکن آئندہ دو ماہ کے دوران پانی کی قلت کی شکایات ممکن ہیں۔ محکمہ آبرسانی کے بموجب شہر میں 1014 سرکاری پاؤر بورویل موجود ہیں جن میں چارمینار‘ ملک پیٹ‘ بہادرپورہ‘ یاقوتپورہ‘ چندرائن گٹہ ‘ نامپلی ‘ کاروان‘ جوبلی ہلز گوشہ محل‘ خیریت آباد‘ مشیر آباد‘ عنبر پیٹ‘ صنعت نگر‘ سکندرآباد کنٹونمنٹ کے علاوہ دیگر علاقوں کے بورویل شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں صرف 710ایس بورویل ہیں جو کارکرد ہیں جبکہ مابقی بورویل بند ہو چکے ہیں ۔ان کے علاوہ 133بورویلس کی مرمت کی گئی ہے جس کے سبب اب 843بورویلس کارکرد ہیںاور 5295ہاتھ سے چلائے جانے والے بورویل ہیں جن میں 3331بورویل کارکرد ہیں ۔سرکاری و خانگی بورویل خشک ہونے کی شکایات پر ماہرین کی رائے ہے کہ شہر میں بارش کے پانی کو جمع کرنے کیلئے اقدامات تیز کئے جانے ضروری ہے کیونکہ اگر یہی صورتحال رہی تو حالات مزید ابتر ہوجانے کا خدشہ ہے اسی لئے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT