Tuesday , October 17 2017
Home / جرائم و حادثات / شہر میں سونے کی چین چھین لینے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک

شہر میں سونے کی چین چھین لینے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک

رہزن جان لیوا جرائم میں ملوث، رہزنی کا شکار خاتون زخمی
حیدرآباد۔ /19 اگست (سیاست نیوز)  دونوں شہروں میں رہزنی کی وارداتیں اچانک بڑھ گئی ہیں اور بالخصوص خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی جان کو جوکھم میں ڈالا جارہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایسے دو واقعات منظر عام پر آئے جن میں ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی جبکہ ایک اور خاتون بری طرح زخمی ہوگئی ۔ اسی طرح ایک رہزن نے خود کو پولیس کے چنگل سے بچانے کیلئے 4 تولے وزنی طلائی زیور نگل لیا تھا اور اس نے اپنی جان کو ہی جوکھم میں ڈال لیا ۔  انسانوں کی جان کی پرواہ کئے بغیر  رہزن آئے دن عوام اور بالخصوص خواتین کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ نلگنڈہ چوراہا پر رات دیر گئے رہزنوں نے ایک جوڑے کو نشانہ بناتے ہوئے خاتون کے گلے سے طلائی چین چھین لی اور اس واقعہ میں خاتون شدید زخمی ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ نامپلی میں منعقدہ شادی کی تقریب سے لوٹ رہے سرینواس اور ان کی بیوی وردھما اپنی موٹر سائیکل پر نلگنڈہ چوراہے سے گزررہے تھے کہ اچانک تیز رفتار سیاہ پلسر گاڑی پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کرتے ہوئے وردھما کے گلے سے طلائی چین چھین لی ۔ اس واقعہ میں خاتون اپنے شوہر کی موٹر سائیکل سے نیچے گرپڑی جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگئی ۔

اس واقعہ کے بعد خاتون نے مدد کیلئے چیخ و پکار کی اور مقامی عوام نے انہیں ملک پیٹ میں واقع ایک کارپوریٹ دواخانہ میں شریک کیا ۔ کچھ ہی دیر بعد اسی رہزنوں کی ٹولی نے ملک پیٹ سوپر بازار کے قریب ایک اور جوڑے کو نشانہ بنایا جہاں پر 21 سالہ کے سنیتا کے گلے سے ڈھائی تولہ منگل سوتر اس وقت اڑالیا جب وہ اپنے شوہر راما کرشنا کے ہمراہ اپنے مکان واقع اکبر باغ آنند نگر واپس لوٹ رہی تھی ۔ رہزنوں نے دو جوڑوں کو نشانہ بنانے سے قبل علاقہ ایل بی نگر اور چیتنیہ پوری میں بھی خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے گلے سے طلائی چین اڑالی تھی ۔ شہر میں اچانک رہزنی کی وارداتوں میں اضافے کے سبب پولیس کے اعلیٰ عہدیدار پریشانی کا شکار ہوگئے اور کئی خطرناک و عادی رہزنوں کو پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل میں محروس رکھنے کے باوجود رہزنی کی وارداتوں میں اضافہ تشویش کا باعث ہے ۔ پولیس یہ بہانا بنارہی ہے کہ رہزنی میں ملوث افراد بین ریاستی ٹولی سے تعلق رکھتے ہیں اور جرم کے ارتکاب کے فوری بعد وہ پڑوسی ریاستوں کو فرار ہوجارہے ہیں ۔ خواتین کے تحفظ کیلئے اولین ترجیح کے دعویٰ کمزور ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور پولیس کو فراہم کی گئی عصری گاڑیاں بے اثر ثابت ہورہی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT