Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں صفائی کو برقرار رکھنے بلدیہ کا دعویٰ کھوکھلا ثابت

شہر میں صفائی کو برقرار رکھنے بلدیہ کا دعویٰ کھوکھلا ثابت

نالوں میں پانی برقرار ، کھلے عام رفع حاجت ، پلاسٹک تھیلیوں کا چلن جاری
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں صفائی کو یقینی بنانے کے علاوہ شہر کے نالوں سے پانی کے بہاؤ کو ممکن بنانے کے لئے بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے متعدد اقدامات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن انہیں اس دعوؤں میں کس حد تک کامیابی حاصل ہورہی ہے یہ بات مذاق کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔شہر حیدرآباد کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک شہر قرار دیئے جانے کا اعزاز حاصل کرنے والی بلدیہ نے آج 10 سے زائد افراد کو کھلے میں رفع حاجت کرنے کی بنیاد پر چالان کرنے کا دعوی کیا ہے اور اسی طرح شہر حیدرآباد میں عرصہ دراز سے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی عائد ہونے کا دعوی کرنے والے بلدی عہدیداروں نے آج دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں 50مائیکرون سے کم والی پلاسٹک پالی تھن کا استعمال کرنے والوں کے خلاف مہم شروع کرتے ہوئے یہ دعوی کرنا شروع کردیا ہے کہ پلاسٹک کے جمع ہونے سے نالوں سے پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں اور تجارتی بازاروں میں آج دھاوے کرتے ہوئے ان کی جانب سے استعمال کی جانے والی پالی تھن بیاگس کے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ حکومت ہند کی جانب سے ’’سوچھتا ہی سیوا‘‘ پروگرام کا اعلان کرتے ہی بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے یہ دعوی کردیا کہ شہر حیدرآباد کھلے میں رفع حاجت سے پاک شہروں میں سر فہرست ہے اور حیدرآباد کے بلدی حدود میں جی ایچ ایم سی نے عوامی سہولت کے مراکز کے قیام کے ذریعہ کھلے میں رفع حاجت کے خاتمہ کو ممکن بنایا ہے اور اس دعوی کو سرکاری سطح پر سچ بھی سمجھا جانے لگا لیکن عوامی سطح پر متعدد مقامات پر کھلے میں رفع حاجت کے نظارے دیکھتے ہوئے بلدیہ کے دعوؤوں کا مضحکہ اڑایا جاتا رہا لیکن بلدی عہدیداروں کی جانب سے یہ دعوی کیا جا تا رہا کہ حیدرآباد میں اب کوئی کھلے میں رفع حاجت کو نہیں جاتا لیکن آج ہی بلدیہ نے صرف ایک علاقہ میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والے 10 افراد کے خلاف چالانات کرتے ہوئے اپنے ہی دعوے کی تردید کی ہے اسی طرح حالیہ دنوں میں روزنامہ سیاست میں ساؤتھ زون آر ٹی اے کے دفتر میں شہریوں کے کھلے عام رفع حاجت کرتے ہوئے تصاویر شائع ہوئی تھیں کیونکہ اس سرکاری دفتر میں ہی عوامی بیت الخلاء نہیں ہے۔کھلے میں رفع حاجت کے مسئلہ کے علاوہ پلاسٹک کے تھیلیوں کے استعمال کے سلسلہ میں سابقہ حکومت بلکہ سابق بلدیہ کی مئیر محترمہ بی کارتیکا ریڈی کے دور سے 40مائیکرون اور 50مائیکرون کی پالی تھن کے استعمال کی کہانی چل رہی ہے اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے کی سمت شہریوں کو مائل کیا جا رہا ہے لیکن گذشتہ دنوں ہوئی بارش کے دوران نالوں میں موجود کچہرے کی نکاسی کے دوران بلدی عہدیداروں کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ شہر میں پلاسٹک اور غیر معیاری پلاسٹک کا کس حد تک چلن ہے۔ بلدی عہدیداروں کی جانب سے اب اس پالی تھن کلچر کے خاتمہ پر توجہ دی جانے لگی ہے لیکن کیا اب تک بلدیہکو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ پالی تھن کہاں بنتی ہیں اور کہاں سے فروخت کی جاتی ہیں ؟ شہریوں کا احساس ہے کہ بلدی عہدیدار سب جانتے ہیں اس کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں اسی وجہ سے غیر قانونی پلاسٹک پالی تھن بازاروں میں برسر عام فروخت ہوتی ہے اور جب اس طرح کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں پلاسٹک استعمال کرنے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتاہے جبکہ بلدیہ کے اعلی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ان عہدیداروں کے خلاف سب سے پہلے کاروائی کریں جن عہدیداروں کے حدود میں یہ پلاسٹک بیاگس فروخت کئے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT