Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں قدیم عمارتوں کی پختگی کا جائزہ لیا جائیگا

شہر میں قدیم عمارتوں کی پختگی کا جائزہ لیا جائیگا

بلدیہ کی جانب سے انجینئرس کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دیدی گئی
حیدرآباد۔13ڈسمبر (سیاست نیوز) سکندرآباد میں بوسیدہ عمارت کے منہدم ہونے سے ایک شخص کی موت کے بعدجی ایچ ایم سی حدود میں موجود 40سال قدیم عمارتوں کی پختگی اور تعمیر میں موجود استحکام کا جائزہ لینے مجلس بلدیہ حیدرآباد نے سرکردہ انجنئیرس کی نگرانی میں کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی ہے جو کہ شہر میں قدیم عمارتوں کے متعلق رپورڈ تیار کریگی۔ مئیر جی ایچ ایم سی مسٹر بی رام موہن نے بتایا کہ شہرمیں عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات کے تحت یہ کمیٹی تیار کی گئی ہے جو شہر میں موجود 40سال سے زائد قدیم عمارتوں کے استحکام و مضبوطی کا جائزہ لے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی نے شہر میں جاری تعمیرات کے اجازت ناموں کے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے کے علاوہ شہر میں موجود قدیم عمارتوں میں مخدوش عمارتوں کو فی الفور منہدم کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور شہریو ںکو ان اقدامات کے ذریعہ مکمل تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسٹر بی رام موہن نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جاری تعمیرات کا جائزۃ لیا جار ہا ہے اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف فوری کاروائی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور کاروائی میں غفلت برتنے والے عہدیداروں کو فوری معطل کرنے حکومت نے احکامات جاری کئے ہیں ۔مئیر بی موہن راؤ‘ کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے جائے حادثہ پہنچ کر تفصیلات اکٹھا کی اور مذکورہ مخدوش عمارت کو دی گئی نوٹس اور عدم انہدام کے متعلق تفصیلات پیش کرنے کی متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی۔ مئیر جی ایچ ایم سی نے اس موقع پر مہلوک کے رشتہ داروں کو بلدیہ کی جانب سے 2لاکھ روپئے ایکس گریشیاء کی اجرائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں نوٹسیں جاری کی جا چکی ہیںلیکن کئی مخدوش عمارتوں میں لوگ قیام پذیر ہیں جنہیں منتقل کیا جانا ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں شہروں میں موجود 40سال سے زیادہ قدیم عمارتوں کی پائیداری کے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور اس سلسلہ میں بلدیہ کے ماہرین کے علاوہ خانگی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت جے این ٹی یو ماماہرین کی خدمات کے حصول کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT