Thursday , June 29 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں موسلادھار بارش ، کئی نشیبی علاقے زیر آب ، ٹریفک نظام درہم برہم

شہر میں موسلادھار بارش ، کئی نشیبی علاقے زیر آب ، ٹریفک نظام درہم برہم

بلدی عہدیداروں اور ملازمین کو متحرک رہنے کی ہدایت ، وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کا جائزہ
حیدرآباد۔8جون(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں مانسون کی پہلی بارش نے ریاستی بلدی نظم و نسق اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے موسم باراں کی آمد کی تیاریوں کے دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقو ںمیں فجر سے عین قبل شروع ہونے والی بارش جو زائد از تین گھنٹے تک جاری رہی نے جی ایچ ایم سی کی جانب سے موسم باراں کی آمد سے قبل بارش کے پانی کی نکاسی اور ٹریفک کے آسان بہاؤ کو ممکن بنانے کے اقدامات کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ صبح کی اولین ساعتوں میں بارش کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے کئی علاقو ںمیں برقی سربراہی منقطع ہوگئی اور کئی محلہ جات میں برقی سربراہی کی بحالی 4 تا 5گھنٹوں بعد تک بھی ممکن نہیں بنائی گئی جس کے سبب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے شہر میں مانسون کی آمد کے ساتھ ہی پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا اور تمام عہدیداروں و ملازمین کو متحرک رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر جمع پانی کی نکاسی کے ساتھ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے اقدامات کریں اور شہریوں کو بارش سے ہونے والے حادثات سے احتیاط کے اقدامات کو فوری ممکن بنایا جائے۔ شہر کے نواحی علاقہ میں شدید بارش کے دوران دیوار گرنے سے گھریلو خاتون زخمی ہو گئی جنہیں فوری دواخانہ منتقل کیا گیا۔ شدید بارش کے آغاز کے ساتھ ہی کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے حرکت میں آتے ہوئے اپنے ماتحت عملہ کو متحرک ہوجانے کی ہدایت دی اس کے باوجود بھی شہر کے کئی علاقوں میں 10بجے دن تک بھی سڑکوں پر پانی جمع رہا جس کی وجہ سے ٹریفک نظام درہم برہم رہا۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں صبح کی اولین ساعتوں میں ہوئی بارش کے پانی کے سڑکوں پر جمع ہوجانے کے باعث جی ایچ ایم سی کو شہریوں سے اپیل کرنی پڑی کہ وہ 11بجے کے بعد اپنے گھروں سے باہر نکلیں تاکہ سڑکوں پر جمع پانی کے سبب ہونے والی دشواریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے شہر کی سڑکوں پر اترتے ہوئے جمع پانی کی نکاسی کے عمل کا آغاز کیا اور ایمرجنسی عملہ کی خدمات حاصل کی گئی لیکن اس کے باوجود بھی 2بجے تک بھی شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال نہیں کیا جا سکا۔محکمہ موسمیات کے مطابق حیدرآباد میں ہوئی 4گھنٹوں کے دوران مسلسل موسلا دھار بارش کے دوران جملہ 77.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور آئندہ 24گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں کئی مقامات پرگھن گرج اور بجلی کے چمکنے کے ساتھ ہونے والی بارش کے سبب صورتحال خوفناک ہوچکی تھی۔جی ایچ ایم سی کے ایمرجنسی شعبہ کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں 267 مقامات پر بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہوئیں اور ان میں 234مقامات پر جمع پانی کی نکاسی کا عمل 3بجے سہ پہر تک مکمل کرلیا گیا جبکہ مابقی مقامات سے پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے علاقائی اعتبار سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق عنبر پیٹ میں سب سے زیادہ 94.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ بندلہ گوڑہ (اپل) میں 92.5‘ بیگم پیٹ میں 90.8‘ نامپلی میں 77.3‘ میر عالم میں 73.5‘ بہادر پورہ 73.5‘ گولکنڈہ میں 69.0‘ راجندر نگر میں 57.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے افضل ساگر نالہ میں پانی کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہونے کے عمل کا جائزہ لیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ نالہ میں بارش کے پانی کے بہاؤ کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں۔دونوں شہروں کے کئی علاقوں خیریت آباد‘ پنجہ گٹہ‘ لکڑی کا پل‘ مانصاحب ٹینک‘ سرور نگر‘ سعید آباد‘ موسی نگر‘ ملک پیٹ‘ تاڑبن‘ کالا پتھر‘ بہادرپورہ ‘ تالاب کٹہ‘ مغلپورہ‘ منڈی میر عالم‘ دارالشفاء‘ گاندھی بھون‘ دارالسلام‘ آغاپورہ کے علاوہ منگل ہاٹ و دیگر علاقوں سے پانی جمع ہوجانے کی شکایات موصول ہوئی ۔ بارش کے ساتھ ہی پرانے شہر کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں برقی سربراہی منقطع ہوگئی اور کئی علاقوں میں 4تا 5گھنٹوں تک بھی برقی سربراہی کو ممکن نہیں بنایا گیا ۔پرانے شہر کے تجارتی علاقوں میں صبح کی اولین ساعتوں کے دوران اچانک بارش کے سبب ٹھیلہ بنڈی رانوں کو اپنے سامان کی حفاظت کیلئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھا گیا۔ شہر میں ہوئی مانسون کی پہلی بارش سے نمٹنے میں بلدیہ کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں بارش کے بعد ڈرینیج کی صفائی کا عمل شروع کیا گیا تاکہ پانی کی نکاسی کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے ۔ بلدی عہدیداروں نے اپنے ماتحت عہدیداروں و ملازمین کے ہمراہ بارش کے دوران کچہرے کی نکاسی کے عمل کا بھی جائزہ لیا اور بارش کے بعد کچہرے کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT