Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں پانی کی قلت ، ٹینکر مافیا کی تجارت میں اضافہ

شہر میں پانی کی قلت ، ٹینکر مافیا کی تجارت میں اضافہ

آبرسانی اور خانگی ٹینکرس کے درمیان سازش ، شہریوں کے لیے بوجھ
حیدرآباد /19 فبروری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پانی کی قلت کا مسئلہ ٹینکر مافیا کیلئے زبردست کاروبار کا باعث بنتا جارہا ہے ۔ حیدرآباد واٹر ورکس کی جانب سے ٹینکرس کی سپلائی میں کی جانے والی تاخیر اور خانگی ٹینکرس کی بروقت سربراہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان کوئی سازش ہے جس کے ذریعہ شہریوں کو لوٹا جارہا ہے ۔ پانی کی قلت کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں عوام محکمہ آبرسانی سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ٹینکر منگوانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کئی مرتبہ انہیں سرکاری پانی کیلئے تین تا چار یوم انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ جبکہ خانگی ٹینکرس اندرون دو گھنٹے پہونچائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی ٹینکرس کی قیمت 5000 لیٹر پانی کیلئے تقریباً 1600 روپئے وصول کی جاتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹینکرس کیلئے صرف 400 روپئے ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ خانگی ٹینکر مافیا کی سرگرمیوں کے سبب نہ صرف شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ خانگی ٹینکر مافیا جس طرح سے زیرزمین پانی فروخت کررہا ہے وہ بالکلیہ طور پر غیرقانونی عمل ہے جس کی وجہ سے زیرزمین پانی کی مقدار میں گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں پانی کی قلت کی کئی علاقوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں اور یہ شکایت بھی عام ہوتی جارہی ہے کہ محکمہ آبرسانی کے ذریعہ پانی کا ٹینکر بک کروائے جانے پر دو تا تین دن کا وقت طلب کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہریان حیدرآباد بحالت مجبوری 1200 تا 1600 روپئے ادا کرتے ہوئے خانگی ٹینکرس کے ذریعہ پانی خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ شہر کے بیشتر کارپوریٹ اداروں کی جانب سے خانگی ٹینکرس خریدے جاتے ہیں لیکن اب یہ خانگی ٹینکرس رہائشی علاقوں میں بھی نظر آرہے ہیں ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ آبرسانی کے پاس ایک علحدہ شعبہ موجود ہے لیکن اس شعبہ کی کارکردگی کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ یہ شعبہ بالکلیہ طور پر غیرکارکرد ہے ۔ عوام کا الزام ہے کہ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں اور خانگی ٹینکر مافیا کے درمیان ملی بھگت کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے جبکہ محکمہ آبرسانی کے پاس کئی ٹینکرس موجود ہیں اور کمرشیل اساس پر پانی کی فروخت سے محکمہ آبرسانی کو فائدہ ہی حاصل ہوگا لیکن اس کے باوجود کمرشیل صارفین کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں منظم سازش کے ذریعہ خانگی ٹینکرس کی جانب رخ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT