Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / شہر میں چلر کی شدید قلت ۔ تجارتی مراکز پر کارڈ مشین دستیاب نہیں

شہر میں چلر کی شدید قلت ۔ تجارتی مراکز پر کارڈ مشین دستیاب نہیں

بعض مراکز پر بل پر 2 فیصد ٹیکس کی وصولی ۔ صارفین پر اضافی بوجھ ۔ بینکوں کی تین روزہ تعطیلات سے مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد۔13ڈسمبر (سیاست نیوز) 2000کے نوٹ کا چلر نہیں ‘ 1000اور 500کے نوٹ چل نہیں رہے ہیں اور بیشتر تجارتی مراکز پر کارڈ مشین نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو حکومت کے احکام کے باوجود بل پر دو فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو صارفین پر بوجھ کے مترادف ہے۔ تین دن بینکو ںکو تعطیل کے دوران کئی لوگوں نے حکومت کے منصوبہ پر بحالت مجبوری عمل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کئی مقامات پر شہر میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دیہی علاقوں میں کیا صورتحال ہو رہی ہوگی۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد حکومت نے نقد رقم کے بغیر تجارت کے فروغ کے لئے کئی ایک اقدامات کئے لیکن ان اقدامات سے کیا عوام کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟ شہر حیدرآباد جسے ٹکنالوجی کا مرکز کہا جاتا ہے یہاں تو ایسا محسوس نہیں ہو رہا ہے کیونکہ شہر کے کئی علاقوں میں موجود تجارتی اداروں کے پاس کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی سہولت نہیں ہے جس کے سبب لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جن تجارتی مراکز میں کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی سہولت ہے وہ 2فیصد رقمی منتقلی چارجس وصول کررہے ہیں جو کہ غلط ہے کیونکہ اول تو یہ چارجس کی ادائیگی صارف کی ذمہ داری نہیں ہوتی اور دوسری بات یہ کہ مرکزی حکومت نے الکٹرانک و کارڈ کے ذریعہ کی جانے والی ادائیگیوں پر 30ڈسمبر تک چارجس مکمل برخواست کردیئے ہیں۔ حکومت ہند کے فیصلہ کے بعد عوام نقد کے بغیر ادائیگی میں دلچسپی دکھا رہی ہے لیکن وصولی کرنے والوں کونقد کے بغیر وصولی میں دلچسپی نہیں ہے۔ شہر میںکئی ایسے پٹرول پمپ ہیں جو کارڈ کے ذریعہ ادائیگی قبول کرنے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ الکٹرانک ادائیگی کو قبول کر رہے ہیں۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کو قبول کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہے لیکن اچانک کارڈ کے استعمال کنندگان میں ہوئے اضافہ کے سبب مشین کام نہیں کر رہے ہیں اور کر بھی رہے ہیں تو رقمی منتقلی انتہائی دشوار امر بن چکی ہے اور 2تا3یوم تک رقومات منتقل نہیں ہو پا رہی ہیں جس کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر کے کئی مقامات سے اس بات کی شکایات وصول ہو رہی ہیں کہ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی قبول نہیں کی جا رہی ہے لیکن اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جوکہ عوام کیلئے مزید تکالیف کا سبب بننے لگا ہے کیونکہ ان کے ہاتھ میں نقد نہیں ہے اور جو نقدی بینک میں ہے اسے نکالنا دشوار ہے۔حکومت نے نقد کے بغیر کاروبار کے فروغ کیلئے اعلانات کئے ہیں لیکن ان اعلانات کا تجارتی برادری پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے جسکے سبب صارفین مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ الکٹرانک و کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی جب سہولت ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں صارفینادائیگی کرے بھی تو کیسے کرے؟ دونوں شہروں میں تاجرین کی جانب سے 2فیصد رقمی منتقلی کے چارجس وصول کئے جا رہے ہیں جس کے سبب عوام کو اضافی رقومات کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT