Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں یومیہ ایک کروڑ روپئے ٹیکس وصولی کا نشانہ

شہر میں یومیہ ایک کروڑ روپئے ٹیکس وصولی کا نشانہ

اواخر مارچ تک 1100 کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ
حیدرآباد 16 فروری (سیاست نیوز) شہر میں جائیداد ٹیکس کی وصولی کیلئے بلدیہ نے خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے اور ہر دن کم از کم 10 کروڑ روپئے وصول کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مقررہ مدت میں نشانہ کو عبور کرنے کے لئے بلدیہ نے عوامی شعور بیداری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے ذریعہ حاصل ہونے والے ٹیکس کی وصولی کے لئے بھی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ کمشنر بلدیہ نے آج اس خصوص میں اعلیٰ سطحی عہدیداروں کا ایک اجلاس طلب کیا اور مارچ کے اختتام تک 1,100 کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس کی وصولی کے لئے اجلاس میں غور کیا گیا۔ بعدازاں کمشنر بلدیہ ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے اپنے صحافتی بیان میں بتایا کہ 31 مارچ 2016 ء تک 1,100 کروڑ کے نشانہ کو عبور کرلیا جائے گا۔ تاہم بلدی عہدیداروں نے تاحال 545 کروڑ روپئے وصول کرلئے ہیں۔ چونکہ اب نشانہ کو عبور کرنے کے لئے 45 دن کا وقت ہے، اس خصوص میں بلدیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر سرکل سطح پر زائد عملہ کو مقرر کیا جائے۔ زونل اور ڈپٹی کمشنر سطح کے عہدیداروں سے تال میل کرتے ہوئے خصوصی عملہ جائیداد ٹیکس کی وصولی پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا اور ان عہدیداروں کے ذریعہ اس کام کو مہم کی شکل دی جارہی ہے۔ کمشنر نے بتایا کہ اس دوران ایسی عمارتوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی جو ابھی تک جائیداد ٹیکس ادا نہیں کررہے ہیں۔ جائیداد ٹیکس کی وصولی کے لئے بلدی عہدیدار گھر گھر جائیں گے اور ایس ایم ایس، ای میل ، شخصی ملاقاتوں کے ذریعہ توجہ دی جائے گی۔ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری، قبضہ سرٹیفکٹ، بی پی ایس درخواستوں کی جانچ بھی کی جائے گی۔ کمشنر نے بتایا کہ سرکاری عمارتوں کے جائیداد ٹیکس کی وصولی کے لئے سرکاری سطح پر اقدامات کئے جائیں گے اور اس کے لئے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی جائے گی۔ کمشنر بلدیہ نے شہریوں سے درخواست کی کہ فوری طور پر جائیداد ٹیکس ادا کریں۔ چونکہ بہتر شہری سہولیات کے لئے جائیداد ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے۔ جائیداد ٹیکس کی وصولی کو آسان بنانے کے لئے جاریہ ماہ کی 21 تاریخ کو سرکل سطح اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں جو ہر سکل دفاتر میں منعقد کیا جائے گا، جائیداد ٹیکس کے تنازعات کی یکسوئی عمل میں لائی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں 13 لاکھ عمارتیں ہیں جن میں 5 لاکھ عمارتیں ایسی ہیں جو سرکاری مراعات کے تحت جائیداد ٹیکس کی ادائیگی کے زمرہ سے باہر ہیں۔ جبکہ 8 لاکھ عمارتیں ایسی ہیں جو جائیداد ٹیکس کے دائرے میں آتی ہیں۔ ان عمارتوں کے ذریعہ 1,100 کروڑ روپئے کیو صولی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT